اصل وزیر خزانہ کون ، مفتاح اسماعیل یا اسحاق ڈار؟
ملکی سطح پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے کہ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل یا اسحاق ڈار ملکی معیشت کے معاملات نمٹا رہے ہیں۔
پاکستان میں اس حوالے سے ایک نئی بحث چھڑ پڑی ہے کہ ملک کی معیشت وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل چلا رہے یا سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار چلا رہے ہیں۔ وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے پیٹرول اور بجلی کی قیمتوں پر پی ٹی آئی حکومت کی دی ہوئی سبسڈی ختم نہ کی تو آئی ایم ایف کا پروگرام متاثر ہوسکتا ہے جبکہ سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا ہے پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی ختم کرکے ایک دم عوام پر بوجھ نہیں ڈال سکتے۔
وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہےکہ جون تک بجلی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر سبسڈی دینے سے ملک کو 700 ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑے گا جو کسی بھی طرح ملکی معیشت کے لیے سود مند نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیے
ملک کے بہترین مفاد میں مسلح افواج کو سیاست سے دور رکھا جائے، آئی ایس پی آر
اینکر پرسن عاصمہ شیرازی اور رب نواز بلوچ کا غلط خبر پر غلط ٹوئٹ
مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے رواں سال بجلی اور پیٹرول پر سبسڈی دینے سے معیشت پر 118 ارب روپے کا بوجھ پڑے گا۔ عمران خان حکومت نے رئیل اسٹیٹ کو ڈھائی سال تک ایمنیسٹی دیئے رکھی ، بتایا جائے ایسا کہاں ہوتا ہے۔؟
دوسری جانب نجی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ہم ڈکٹیشن نہیں لے سکتے اس لیے ہمیں آئی ایم ایف سے دوبارہ مذاکرات کرنے چاہئیں ، کیونکہ ہم سبسڈی ختم کرکے مکمل بوجھ عوام پر نہیں ڈال سکتے ہیں۔
"سعودی عرب اور یو اے ای کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں، میں پرامید ہوں کہ یہ ممالک تعاون کریں گے اور پاکستان کے پاس رکھے 3 ارب ڈالر ابھی نہیں نکالیں گے”
سابق وزیر خزانہ، اسحاق ڈار@NayaPakistanGeo pic.twitter.com/loE32Rp5e6
— Shahzad Iqbal (@ShahzadIqbalGEO) May 7, 2022
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ ہم نے ملک چلانا ہے ڈکٹیشن لے کر ملک کو نہیں چلاسکتے ۔
آٹے کی قیمتوں سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے رہنما اسحاق ڈار ہماری حکومت فلور ملز کو گندم پر سبسڈی دے گی جس سے آٹے کی قیمت نیچے آ جائے گی۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی حکومت نے روپیے کو کھلا چھوڑ کر ملکی معیشت کا جنازہ نکال کر دیا ، روپے کو کھلا چھوڑنے سے پاکستان کو 4 ہزار ارب روپے کا نقصان ہوا ، ہم ڈالر کو کنٹرول کریں اور اس کی قیمت کو 160 روپے تک لانے کی کوشش کریں گے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایک جانب وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل عمران خان کی معاشی پالیسی سے جان چھڑانے کی باتیں کررہے یعنی سبسڈی ختم کرنے کی باتیں کررہے ہیں کیونکہ آئی ایم ایف کا پروگرام متاثر ہوسکتا ہے ، جبکہ اسحاق ڈار آئی ایم ایف سے تازہ مذاکرات کی شنید سنا رہے ہیں۔
تاہم تجزیہ کاروں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملک میں اس وقت مہنگائی کی شرح 12 فیصد سے زیادہ ہے ، ڈالر کی قیمت 188 روپے پر چل رہی ہے ، زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر 17 ارب ڈالر رہ گئے ہیں اور تجارتی خسارہ 35 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے ، اگر یہ سب کچھ پی ٹی آئی حکومت کی ناقص پالیسیز کی وجہ سے تھا تو بھی ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ معیشت کی بحالی میں مفتاح اسماعیل کردار ادا کرتے ہیں یا اسحاق ڈار۔ بس معیشت بحال ہونی چاہیے تاکہ غریب آدمی کا بھلا ہوسکے۔









