وزیراعظم کا دورہ: معاشی طور پر بدحال ترکی پاکستان کی کیا مدد کرپائے گا؟

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کا دورہ اس وقت ہورہا ہے جب ترکی خود بری طرح سے معاشی بحران سے گزر رہا ہے ، ایسے میں شہباز شریف کا دورہ کتنا ثمر آور ثابت ہو گا اس پر سوالیہ نشان ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف آج تین روزہ دورے پر ترکی روانہ ہو رہے ہیں ، اور یہ دورہ ایسے وقت میں ہورہا ہے جب ترکی خود شدید ترین معاشی بحران سے گزررہا ہے ، دفتر خارجہ نے وزیراعظم کے دورہ ترکی کی تصدیق کردی ہے۔

ذرائع کے مطابق تین روزہ دورے کے دوران وزیراعظم شہباز شریف ترک صدر رجب طیب اردوان سے ون آن ون ملاقات کریں گے جب کہ وفود کی سطح پر بھی مذاکرات ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیے

ایک ماہ بعد پنجاب کو گورنر اور کابینہ نصیب ہو گئی

صدر مملکت کے دو بڑے فیصلے، گورنر پنجاب اور الیکشن کمیشن کے ممبران تعینات

ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں رہنما مشترکہ پریس کانفرنس سے بھی خطاب کریں گے اور ترک کمپنیوں کے سربراہان بھی وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کریں گے۔

ذرائع کے مطابق ترک صدر وزیراعظم کے اعزاز میں عشائیہ بھی دیں گے۔

وزارت خارجہ نے جمعہ  کے روز اس بات کی تصدیق کی تھی وزیر اعظم شہباز شریف اگلے ہفتے ترکی کا دورہ کریں گے جو کہ گزشتہ ماہ اعلیٰ عہدہ سنبھالنے کے بعد ان کا پہلا دورہ انقرہ ہوگا۔

شہباز شریف ترکی کے فارن اکنامک ریلیشن بورڈ کے تعاون سے منعقد ہونے والے پاکستان-ترکی بزنس کونسل فورم میں بھی شرکت کریں گے۔

ان تقریبات کے دوران وزیراعظم پاکستان میں سرمایہ کاری کے وسیع امکانات کو اجاگر کریں گے اور ترک کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے اور پاکستان ترکی تجارتی اور اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے کے لیے سرمایہ کاری کی ترغیب دیں گے۔

یاد رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان جنوری 2019 میں دو روزہ دورے پر ترکی گئے تھے، جہاں انہوں نے انقرہ میں ترک صدر رجب طیب اردوان اور دیگر اعلیٰ حکومتی حکام سے ملاقاتیں کی تھیں۔

رواں ماہ وزیراعظم شہباز شریف نے وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کا دورہ کیا تھا ، اُن دورہ کا مقصد تیل سے مالا مال ملکوں سے معاشی تعاون حاصل کرنا تھا اور دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کرنا تھا۔

واضح رہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف کے دورہ سعودی عرب کے تناظر میں بین الاقوامی جریدے رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے سعودی وزیر خزانہ محمد الجدعان نے کہا تھا کہ حکومت پاکستان کو 3 بلین ڈالر کے ڈیپازٹ میں توسیع کے عمل کو حتمی شکل دی جارہی ہے۔

دورہ ترکی کے حوالے سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کا دورہ اس وقت ہورہا ہے جب ترکی خود بری طرح سے معاشی بحران سے گزر رہا ہے ، ملک مکمل طور پر کساد بازاری کا شکار ہے ، مہنگائی اپنے عروج پر ہے ۔ بے روزگاری بڑھ رہی ہے اور دوسرا یہ ہے آج کل پاکستانیوں کے خلاف ترکی جیسے برادر ملک میں مہم چل رہی ہے ، ایسے میں وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ کتنا ثمر آور ثابت ہوسکتا ہے سوالیہ نشان ہے۔

Prime Minister Shahbaz Sharif's visit progress

اخبارات میں گردش کرنے والے اشتہارات پر تبصرہ کرتے ہوئے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے ترکی کے سخت معاشی حالات میں وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ کتنا کامیاب ہوتا ہے اور پاکستان کو کیا ریلیف ملتا ہے یہ  بعد کی بات ہے ، تاہم اخبارات کو دس دس لاکھ روپے کے اشتہارات دے کر قومی خزانے پر ضرور بوجھ ڈالا جارہا ہے جوکہ تشوشناک امر ہے۔

متعلقہ تحاریر