بچوں کے خلاف سائبر کرائمز کی روک تھام کے لیے ایف آئی اے کا بڑا اقدام

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی نے بچوں کے بڑھتے ہوئے کرائمز کو روکنے کے لیے سوشل میڈیا پر ویڈیو پیغام شیئر کیا اور ضرورت کے وقت ہیلپ لائن نمبر بھی شیئر کیا ہے۔

اسلام آباد: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے بچوں کے خلاف بڑھتے ہوئے سائبر کرائمز کو روکنے کے لیے آگاہی پروگرام شروع کیا ہے، جس کا مقصد معصوم بچوں اور بچیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے جرائم کو روکنا ہے۔

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ویڈیو پیغام جاری کیا گیا ہے جس کے مطابق گزشتہ چند سالوں کے دوران ملک میں بچوں کے خلاف سائبر کرائمز میں بے پناہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اسلام آباد میں لمز گریجویٹ قتل، غیر ملکی خاتون سے زیادتی، وزیر داخلہ کیا کر رہے ہیں

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ویڈیو پیغام میں کہا گیا کہ "کیا آپ جانتے ہیں ؟ گزشتہ کچھ سالوں میں سائبر کرائمز کا شکار ہونے والے بچوں کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔”

ایف آئی اے کے ویڈیو پیغام میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے کہ "ریسرچ کے مطابق زیادہ تر شکار ہونے والے بچوں کی وہ تعداد ہے ، جو اپنی انٹرنیٹ کی سرگرمیوں اور سوشل میڈیا پر موجودہ دوستوں کے بارے میں والدین کو آگاہ نہیں کرتے!!۔”

ایف آئی اے سائبر کرائم سیل نے بچوں کے لیے سفارشات کرتے ہوئے کہا ہے کہ یاد رکھیں "سوشل میڈیا پر موجود افراد اور معلومات زیادہ تر ناقابل اعتبار ہوتی ہیں ، اس لیے ذاتی معلومات فراہم کرنا یا کسی بھی طرح کے تعلقات بنانا نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔”

پیارے بچوں ” سوشل میڈیا کو استعمال کرتے ہوئے کچھ اصول یاد رکھیں، اپنی تصاویر اور ویڈیوز کو آن لائن شیئر نہیں کرنا ، اپنا ایڈریس اور فون نمبر سوشل میڈیا پر نہیں لگانا ہے۔”

پیارے بچوں "اپنی اور اپنے گھر والوں کی ذاتی معلومات اور پاسورڈ کسی نہیں بتانے۔ انٹرنیٹ کی دنیا میں ملنے والے لوگوں کے حوالے سے گھر پر موجود ذمہ دار افراد یا والدین سے رہنمائی لیں۔ یاد رکھیں والدیں بچوں کے سب سے بہترین رہنما ہیں۔”

سوشل میڈیا پر شیئر کیئے گئے آگاہی پروگرام کے آخری میں والدین اور بچوں کی سہولت کے لیے ایف آئی اے نے ہیلپ لائن نمبر 1991 اور سائبر کرائم رپورٹنگ سینٹر کا ای میل ایڈریس بھی شیئر کیا ہے۔

متعلقہ تحاریر