پاکستان گرے لسٹ سے نکلے گا یا نہیں؟ فیٹف جلد فیصلہ کرے گا
فنانشل ایکشن ٹاسک فورس اجلاس میں پاکستان سے متعلق امور 15 سے 16 جون کو زیر غور آئیں گے۔
وزارت خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے پاکستان کے گرے لسٹ سے نکلنے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں ، کیونکہ پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے تمام اہداف کو حاصل کرلیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق عالمی ادارے برائے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کا اجلاس 14 سے 17 جون تک جرمنی کے شہر برلن میں ہوگا۔
یہ بھی پڑھیے
برطانوی اخبار گارڈین نے شہباز شریف کو جمہوریت دشمن قرار دے دیا
مونس الہٰی کے خلاف ایف آئی اے منی لانڈرنگ کیس کی تحقیقات کرےگا، ذرائع
فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے 14 جون سے شروع ہونے والے اجلاس پاکستان کو گرے لسٹ میں رکھنا ہے یا نہیں اس حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔
وزارت خزانہ کے بیان کے مطابق پاکستان نے فیٹف کے دو مختلف پلانز کے تحت 34 میں سے 32 نکات پر عمل کر چکا ہے۔
پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے 2018 کے ایکشن پلان کے 27 میں سے 26 نکات پر عمل درآمد کیا تھا جبکہ سال 2021 کے اسی ایکشن پلان کے تحت 7 میں سے 6 نکات پر عملدرآمد مکمل کیا تھا۔
وزارت خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کے تمام اہداف پر علمدرآمد مکمل کر لیا ہے۔
وزارت خزانہ کے ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایف اے ٹی ایف اجلاس کیلئے متعلقہ امور کی نگرانی وزارت خارجہ کے سپرد کی گئی ہے، جبکہ اجلاس میں شرکت کیلئے وزارت خارجہ نے حکمت عملی طے کر لی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) اجلاس میں پاکستان سے متعلق امور 15 سے 16 جون کو زیر غور آئیں گے۔
وزارت خزانہ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان سے متعلق امور کا جائزہ ایف اے ٹی ایف کے پلینری سیشن میں لیا جائے گا، اجلاس میں پاکستانی وفد کی نمائندگی حنا ربانی کھر کریں گی۔









