اور یوں بیانیہ اپنے خالق حقیقی سے جاملا

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے سابق وزیراعظم کا سابق صدر کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت کو ہدایت دینا کہیں مقتدد حلقوں کی حمایت کرنا تو مقصود نہیں۔

پاکستان کے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ حکومت پرویز مشرف کی وطن واپسی کے لیے اقدامات میں سہولت فراہم کرے ، لیکن ان کے اپنے ڈاکٹرز نے انہیں لمبے سفر سے منع کر رکھا ہے جبکہ دوسری جانب ان کی پارٹی کے سینئر رہنما اور وفاقی وزیر میاں جاوید لطیف نے ایک مرتبہ پھر یہ اعلان کردیا ہے کہ نواز شریف جلد پاکستان میں ہوں گے۔

سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کی صحت کی تشویشناک حالت کو دیکھتے ہوئے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "میری پرویز مشرف سے کوئی ذاتی دشمنی یا عناد نہیں۔ نہیں چاہتا کہ اپنے  پیاروں کے بارے میں جو صدمے مجھے سہنا پڑے، وہ کسی اور کو بھی سہنا پڑیں۔”

نواز شریف نے مزید لکھا ہے کہ "ان کی صحت کے لیے اللّہ تعالیٰ سے دعاگو ہوں۔ وہ واپس آنا چاہیں تو حکومت سہولت فراہم کرے۔”

ایک جانب میاں نواز شریف حکومت کو ہدایت دے رہے کہ وہ پرویز مشرف کی وطن واپسی کے اقدامات کرے مگر دوسری جانب ڈاکٹرز نے ایک مرتبہ پھر انہیں خبردار کرتے ہوئے لمبے سے منع فرمایا ہے۔

نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹرز نے علاج مکمل ہونے تک میاں نواز شریف کو غیرضروری سفر سے اجتناب برتنے کی ہدایت کی ہے۔

خیال کیا جارہا تھا کہ نئے پاسپورٹ کے اجراء کے بعد میاں نواز شریف اور سابق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار وطن واپس آجائیں گے مگر فی الحال ایسا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔

واضح رہے کہ میاں شہباز شریف کی حکومت آنے کےبعد نواز شریف اور اسحاق ڈار کو 23 اپریل 2022 کو نئے پاسپورٹ جاری کیئے گئے تھے۔

میاں نواز شریف کے ٹوئٹر پیغام پر ردعمل دیتے ہوئے معروف صحافی مبشر زیدی نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر لکھا ہے کہ "تمام نونی دوست ٹینکوں کے نیچے سے باہر آ جائیں۔”

نواز شریف کے بیان پر سخت ردعمل دیتے ہوئے سابق وفاقی وزیر شیری مزاری کی صاحبزادی ایمان مزاری نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "آپ کو اگر لگتا ہے تو ایسا نہیں ہے، یہ مُلک کسی کی ذاتی جاگیر نہیں ہے۔ مشرف پاکستان کی عدالتوں اور عوام کے سامنے جوابدہ ہیں۔ یہ توہین آمیز اور بزدلانہ ہے کہ اپنے “ووٹ کو عزت دو” کے بیانیہ کی طرح آپ نے آئین کو بھی ٹوائلٹ پیپر سمجھ لیا ہے۔”

معروف صحافی اور یوٹیوبر اسد طور نے نواز شریف کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے آرمی چیف بننے کے ڈر سے عمران خان کو وزارتِ عُظمیٰ سے نکالنے والے میاں صاحب بتا رہے ہیں وہ “ذاتی دشمنی یا عناد” نہیں رکھتے۔ اللہ اُکبر۔”

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے ملک میں اس وقت مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہے اور وزیراعظم بھی میاں نواز شریف کے چھوٹے بھائی شہباز شریف ہیں ایسے میں ان کا ملک میں واپس نہ آنا خود ایک سوالیہ نشان ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ نواز شریف کا کیا جیل کا خوف ہے ، ایک لیڈر کو کسی صورت جیل کا خوف نہیں ہونا چاہیے ، انہیں پاکستان آنا چاہیے اور مقدمات کا سامنا کرنا چاہیے ۔

تجزیہ کاروں کا نواز شریف کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہنا ہے کہ میاں صاحب ، سابق صدر کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت کو سہولت کاری کی ہدایت دے رہے ہیں ، پوچھنا صرف اتنا ہے کہ وہ یہ ہدایات کس حیثیت سے دے رہے ہیں ، یا پھر مقتدد حلقوں کی حمایت تو حاصل کرنا مقصود نہیں ہے؟ یا پھر ووٹ کو عزت دو کا بیانیہ کہیں دفن ہو گیا ہے؟

متعلقہ تحاریر