ایف آئی اے نے مونس الہیٰ کو سوالنامہ تھما دیا، شریک ملزمان کا ریمانڈ منظور

ایف آئی اے کی ٹیم  نے مونس الہی سے رحیم شوگر ملز میں ان کے  شیئرز کے حوالے سے سوالات پوچھے

مسلم لیگ (قاف) کے مرکزی رہنما رکن قومی اسمبلی مونس الٰہی ایف آئی اے کے سامنے پیش ہوگئے۔ مونس الہیٰ کے شریک ملزمان  کو 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کردیا گیا ہے۔

مسلم لیگ قاف کے رکن قومی اسمبلی  چوہدری مونس الہیٰ  وفاقی تحقیقاتی ادارے  ایف آئی اے کے دفتر میں پیش ہوگئے ۔ اسپیکر پنجاب اسمبلی کے صاحبزادے مونس الہیٰ گزشتہ روز بھی ایف آئی اے کے دفتر پہنچیں تھے تاہم حکام نے انہیں آج صبح پیش ہونے کی ہدایت دی تھی ۔

یہ بھی پڑھیے

حمزہ شہباز نے آئین پاکستان کو نازیبا اشارہ کرنے عطاتارڑ کو محکمہ داخلہ کا قلمدان سے نواز دیا

مونس الہیٰ آج صبح ساڑھے  8 بجے    ایف آئی اے کے دفتر پہنچے تو انہیں سے  5 رکنی ٹیم نے تحقیقات شروع کردی ۔ ایف آئی اے کی 5 رکنی تحقیقاتی ٹیم  نے  مونس الہی سے رحیم شوگر ملز میں ان کے  شیئرز کے حوالے سے سوالات پوچھے  ۔ان سے پوچھا گیا کہ رحیم یار خان شوگر ملز کیسے بنی؟ ۔نواز اور مظہر سے کیا تعلق ہے ۔سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمد خان بھٹی اور ان کے بھتیجے جواد بھٹی کو کب سے جانتے ہیں۔

 

اطلاعات کے مطابق  سابق وفاقی وزیر  مونس الہیٰ  سے پوچھا گیا کہ  2013  میں خریدی گئی رحیم شوگر ملز کے حصص کے بارے میں آپ کو معلومات تھیں ؟

سابق دور حکومت میں قائم  کیے گئے شوگر کمیشن کے انکشاف کے بعد مونس الٰہی کے خلاف رحیم یار خان کی شوگر مل کے کیس میں 720 ملین روپے کی منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا ۔

واضح رہے کہ  مونس الہیٰ خلاف درج ایف آئی آر میں کہا گیا ہےکہ مونس الٰہی کے خلاف منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت کارروائی کا آغاز 2 سال قبل ہوا۔

دوسری جانب لاہور ضلع کچہری میں جوڈیشل مجسٹریٹ غلام مرتضیٰ ورک  نے پاکستان مسلم لیگ (قاف)  کے رہنما  اور سابق وفاقی وزیر مونس الہٰی کے شریک ملزمان کا چار روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا ہے ۔

ذرائع کے مطابق مونس الہٰی سمیت دیگر کے خلاف 24  ارب روپے کی منی لانڈرنگ کے مقدمے میں ایف آئی اے کے پراسیکیوٹر منعم بشیر چوہدری ضلع نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کے خلاف منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج ہے لہٰذا ملزمان سے تفتیش کے لیے جسمانی ریمانڈ منظور کیا جائے۔

متعلقہ تحاریر