مشکل معاشی حالات کے ذمہ دار عمران خان ہیں، وفاقی وزراء

وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے توانائی بحران سے نمٹنے کے لیے ہمیں شمسی توانائی پر منتقل ہونا ہوگا۔

وفاقی وزرا نے کہا ہے کہ موجودہ حکومت کے سخت فیصلوں کے ذمہ دار سابق وزیراعظم عمران خان ہیں، ان غلط معاشی پالیسیوں کی وجہ سے ہی موجودہ حکومت کو تین مرتبہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانی پڑیں۔دنیا بھر میں مارکیٹیں شام چھ بجے بند ہو جاتی ہیں جبکہ ہماری مارکیٹیں رات ایک بجے تک کھلی رہتی ہیں ،دنیا میں ایسا کہیں نہیں ہوتا۔مارکیٹیں جلد بند کرکے 4000میگاواٹ بجلی بچائی جاسکتی ہے۔

وزیر دفاع خواجہ آصف کا اسلام آباد میں دیگر وزراء کے ہمراہ نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کے پاس مشکل فیصلے کرنے کے سوا کوئی آپشن نہیں۔

یہ بھی پڑھیے

ایف آئی اے نے مونس الہیٰ کو سوالنامہ تھما دیا، شریک ملزمان کا ریمانڈ منظور

مراسلے کی تحقیقات کے لیے پاک فوج اور پی ٹی آئی ایک پیج پر

ان کا کہنا تھاکہ عمران خان کا رونا صرف یہ ہے کہ ان کو حکومت سے کیوں نکالا ،وہ الزام لگاتے ہیں کہ ان کے خلاف سازش ہوئی جس میں ادارے شامل ہیں، جو بے بنیاد دعویٰ ہے۔

ماضی میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے عوام کے لیے کچھ نہیں کیا گیا، عمران خان اپنی کارکردگی سے متعلق کوئی بات نہیں کرتے، ان کے دور میں ریکارڈ قرضے لیے گئے۔اور معیشت تباہی حالی کی راہ پر گامزن کی گئی۔

خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ہمیں حکومت ملی تو معیشت کی حالت بہت خراب تھی جس کے سبب  موجودہ حکومت کو 3 مرتبہ پیٹرول کی قیمت بڑھانا پڑی، جس کی ذمہ داری سابق حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ آئی ایم ایف معاہدے میں شرائط پی ٹی آئی کی لگائی ہوئی تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی صرف پاکستان میں نہیں پوری دنیا میں ہے، روس یوکرین جنگ کی وجہ سے پیٹرول اور گیس کی قیمتوں میں کئی گناہ اضافہ ہوا، توانائی بحران سے نمٹنے کے لیے ہمیں شمسی توانائی پر منتقل ہونا ہوگا۔

خواجہ آصف نے کہا کہ شام سات بجے مارکیٹیں بند ہونے سے بجلی اور پیٹرول کا بوجھ کم ہوگا، مارکیٹیں جلد بند کرنے سے 3500 میگاواٹ بجلی بچائی جاسکتی ہے، کراچی کو شامل کرلیا جائے تو 4 ہزار میگاواٹ بجلی کی بچت ہوگی، تاجر حضرات اس معاملے پر تعاون کریں۔

وزیر مملکت پیٹرولیم ڈویژن مصدق ملک نے کہا کہ سابق حکومت  نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں نہ بڑھانے کا فیصلہ سیاسی سطح پر کیا، عمران خان نے 1200 سے 1500 ارب روپے کی سبسڈی دی جب کہ پورے دفاعی اخراجات 1500 ارب روپے ہیں، تحریک انصاف کی سابق حکومت  نے بارودی سرنگ بچھائی جبکہ پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی کے حوالے سے کابینہ یا ای سی سی  سے منظوری نہیں لی گئی۔

وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر قمر زمان کائرہ نے کہا کہ پیٹرول پر سبسڈی کے لئے حکومتی خزانےسے پیسہ خرچ ہورہا تھا، ہم پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی جاری نہیں رکھ سکتے تھے۔ ایسا کرنا ملک کی معیشت کے لئے سخت نقصان دہ ہوتا۔پیٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی جاری رکھتے تو دیوالیہ ہونےکی طرف جارہے تھے، ہمارے پاس مشکل فیصلوں کےعلاوہ کوئی چوائس نہیں تھی۔

وفاقی وزیر مواصلات مولانا اسعد محمود کا کہنا تھا کہ حکومت ہنگامی بنیادوں پر معاشی مسائل سے نمٹنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور ہمیں سخت فیصلے مجبور کرنا پڑ رہے ہیں ، ہمیں یقین ہے کہ ہم جلد ان حالات سے نکل جائیں گے۔

متعلقہ تحاریر