عمران خان نے اتوار کی رات 9 بجے ملک گیر احتجاج کی کال دے دی

چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا ہے بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف اگر آج ہم نے احتجاج نہ کیا اور اس حکومت کو نہ نکالا تو یہ مہنگائی اور بڑھے گی۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے اتوار کی رات 9 بجے مہنگائی کے خلاف ملک گیر احتجاج کی کال دے دی ہے۔ سابق وزیراعظم کا کہنا ہے میری قوم سے درخواست ہے کہ وہ احتجاج کے لیے نکلے۔

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف احتجاج کی کال دے رہا ہوں ، اس تماشے کے خاتمے کے لیے ہم سب کو باہر نکلنا ہوگا ، ورنہ مزید مہنگائی آئے گی۔

یہ بھی پڑھیے

پی ٹی آئی کے خلاف ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ 30 روز میں سنانےکا  حکم کالعدم

انہوں نے کہا ہے کہ میں اپنی قوم سے ڈیزل اور پیٹرول کی جو قیمتیں مہنگی ہوئی ہیں بات کرنا چاہتا ہوں ۔ میں اپنا لائحہ عمل دینا چاہتا ہوں ، ہمیں بحیثیت قوم کیا کرنا چاہیے۔ چپ کر کے سب کچھ برداشت کرنا چاہیے یا پھر اپنی آواز بلند کرنی چاہیے۔

ویڈیو پیغام میں عمران خان نے کہا کہ "ہمارے خلاف جو سازش ہوئی تھی ، جو عدم اعتماد ہوئی تھی ، جس وجہ سے ہمارے اتحادی ہمیں چھوڑ کر گئے تھے ، اور ہمارے وہ لوگ جو لوٹا بنے تھے ان سب نے ایک بات کہی تھی کہ بہت مہنگائی ہو گئی ، ہم سے اپنے حلقوں میں نہیں جایا جارہا ۔ حکومت بہت نااہل ہے۔

چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا تھا ہمارے مخالفین بھی مہنگائی کا رونا روتے تھے اور ہمارے اپنے جنہوں نے ان کا ساتھ دیا وہ بھی مہنگائی کا رونا روتے تھے۔

ن لیگ ، پیپلز پارٹی اور فضل الرحمان صرف ایک ہی بات کررہے تھے کہ بہت مہنگائی ہو گئی ہے ، ملک تباہ ہو گیا ہے ، اس نااہل کو گھر بھیجنا چاہیے، میڈیا کے بڑے بڑے اینکر ان کے پیچھے کھڑے تھے۔

انہوں نے کہا کہ میں اپنی قوم کے سامنے حقائق رکھنا چاہتا ہوں ، اللہ الحق ہے ، سچ کا خدا ہے ، اللہ کا وعدہ ہے کہ سچ سامنے آئے گا ، سچ چھپتا نہیں ہے۔ حکومت کو گھر بھیجنے والے تمام لوگوں نے ایک ہی بات کی کہ مہنگائی بہت ہے ۔

90 کی دہائی میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کی حکومتیں کرپشن کی بنا پر نکالی گئیں ، میں چیلنج کرتا ہوں کہ عمران خان نے کرپشن کی ہے۔

جب ہم گئے تھے تو پیٹرول تھا 150 روپے لیٹر ، آج پیٹرول ہے 234 روپے فی لیٹر ہے، ہم نے 200 روپے فی لیٹر اپنے لوگوں کو سبسڈی تھی کیونکہ ہمیں اپنے لوگوں کو بچانا تھا۔ جب پیٹرول اور ڈیزل بڑھتا ہے تو ساری چیزیں مہنگی ہو جاتی ہیں ، اسی لیے ہم نے سبسڈی دی تھی کیونکہ اگر سبسڈی ختم کریں گے تو سب زیادہ متاثر عام آدمی ہو گا۔ آئی ایم ایف ہمیں کہہ رہا تھا کہ پیٹرول اور ڈیزل مہنگا کرو ، ہم نے 10 روپے مزید کم کردیئے ۔ لوگوں کو عالمی مہنگائی سے تحفظ دیا۔

ہمارے دور میں ڈیزل 145 روپے فی لیٹر تھا آج ڈیزل 260 روپے فی لیٹر میں دستیاب ہے۔

ہمارے دور میں بجلی کا فی یونٹ 16 روپے تھا آج بجلی کا فی یونٹ 29 روپے میں مل رہا ہے۔ ابھی انہوں نے خود کہا ہے اس کی قیمت میں مزید اضافہ ہوگا۔

ہماری حکومت میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 1100 روپے میں دستیاب تھا آج 1500 روپے میں مل رہا ہے۔ گھی 400 روپے فی کلو میں دستیاب تھا آج 650 روپے میں مل رہا ہے ۔

متعلقہ تحاریر