پیٹرول کی قیمت میں بار بار  اضافہ، بے بس ڈارئیورز نے رکشے جلادیئے

پیٹرول کی قیمتوں میں 20 دن میں  84 روپے اضافے  پر رکشہ ڈرائیورز نے احتجاجی مظاہرہ کیا

اتحادی حکومت کی جانب سے 20 روز میں 3 بار پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں  میں اضافے کے بعد غریب  رکشہ ڈرائیورز نے احتجاج کیا ۔

پیٹرول کی قیمتوں میں 20 دن میں  84 روپے اضافے  پر نواب شاہ  پریس کلب کے باہر رکشہ ڈرائیورز نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔احتجاج کے دوران دو ڈرائیوروں نے اپنے رکشوں کو آگ لگادی۔ احتجاجی  مظاہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ حکومت نے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے نے روزگار چھین لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

سی این جی ایسوسی ایشن کی پیٹرول اور ڈیزل سے کم قیمت  پر گیس  فراہم کرنے پیشکش

رکشہ ڈرائیورز کاکہنا تھا کہ سواری مل نہیں رہی  جبکہ بچے فاقہ کشی کا شکار ہیں۔  پیٹرول کی قیمتوں میں  مسلسل اضافے نے ہمارا روزگار چھین لیا۔

 

پیٹرول کی قیمتوں میں  اضافے پر نواب شاہ میں رکشہ ڈرائیورز نے اپنے رکشے نذر آتش کیے تو  حیدرآباد میں اسٹیشن روڈ پر ڈرائیوروں نے احتجاجاً موٹر سائیکلوں کو  بھی آگ لگا دی۔

واضح رہے کہ پاکستان مسلم لیگ نون ، پیپلز پارٹی سمیت 13 اتحادیوں  پر مشتمل مخلوط حکومت نے  20 روز مسلسل تیسری بار پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کیا۔

 20 روز کے دوران پٹرول کی قیمت میں 84 روپے، ڈیزل کی قیمت میں 119 روپے کا ریکارڈ اضافہ کیا گیا۔

خیال رہے کہ ماضی میں تحریک انصاف کی حکومت پر ڈالر اور پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے سمیت معاشی پالیسیوں پر تنقید کرنے والی جماعتیں اقتدار سنبھالنے کے بعد اب خود شدید تنقید کی زد میں ہیں۔

اپریل میں اقتدار میں آنے کے بعد موجودہ حکومت کی جانب سے  پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے  پر  اتحادی جماعتوں کے رہنما  بھی نالاں نظر آتے ہیں۔

نون لیگ کی اہم اتحادی  جماعت پیپلز پارٹی  کے سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر حکومتی پالیسیوں سے ناخوش نظر آ رہے ہیں۔ انہوں نے ٹوئٹر پر اپنی رائے کا اظہار بھی کیا ہے ۔

بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) مینگل سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر آغا حسن بلوچ نے کہا ہے کہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ خوشی سے نہیں کیا گیا۔

متعلقہ تحاریر