مریم اورنگزیب کی پریس کانفرنس کے بعد مریم نواز کی نئی ویڈیو آنے کا امکان
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مریم نواز نیب کی حراست میں موبائل فون رکھتی تھیں۔ انہیں بستر جیسی مناسب سہولتیں دی گئی تھیں اور انہیں فرش پر کھانا نہیں دیا جا رہا تھا۔

وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب کی پریس کانفرنس کے ایک روز بعد پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل ن) کی نائب صدر مریم نواز کی ایک ویڈیو کے جلد ہی منظر عام پر آنے کے امکان پیدا ہو گئے جس میں انہیں خفیہ طور پر موبائل فون نیب کی تحویل میں لاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
مریم اورنگزیب نے گزشتہ روز پریس کانفرنس کرتے ہوئے اے آر وائی نیوز پر الزام لگایا تھا کہ انہیں قوائد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کرکٹ کے حقوق دیئے گئے تھے ، جس سے اب تک پی ٹی وی کو 52 کروڑ روپے سے زیادہ کا نقصان ہو چکا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
حمزہ شہباز ضمنی انتخابات میں دھاندلی کیلئے ڈی پی اوز پر دباؤ ڈال رہا ہے، قریشی کا الزام
مبینہ مراسلہ سیاسی تھا تو عمران سلامتی کمیٹی میں کیوں لے کر گئے؟ مریم نواز
مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ اے آر وائی کو کرکٹ دکھانے کے حقوق اس وقت دیئے گئے جب چینل کے پاس "کرکٹ چینل” کا لائیسنس بھی نہیں تھا۔
ادھر نجی نیوز چینل پریس کانفرنس کے ٹھیک ایک دن بعد مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز کے خلاف شواہد کے ساتھ ایک نئی ویڈیو سامنے لے آیا ہے ، جس میں مریم نواز خفیہ طور پر قومی احتساب بیورو (نیب) کی تحویل میں موبائل لے کر آتی دکھائی دے رہی ہیں۔
ویڈیو میں دکھایا گیا تھا کہ مریم نواز ایک بڑے کمرے میں نیب کی حراست میں ہیں اور سفید لباس اور رنگین دوپٹہ پہنے ہوئے ہیں۔ چار سے چھ وردی پوش خواتین اہلکار کمرے میں داخل ہوتی ہیں اور ان کے افسر نے انہیں کمرے کی تلاشی لینے کی ہدایت کرتے ہیں۔
اہلکاروں کی آمد پر مریم نواز اپنا موبائل تکیے کے اندر چھپا لیتی ہیں اور اس پر بیٹھ جاتی ہیں۔ خواتین پولیس اہلکاروں کو تلاشی کے باوجود کمرے میں کچھ نہیں ملا۔
سامنے آنے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ مریم نواز تلاشی کے دوران مسلسل اہلکاروں کے ساتھ بدتمیزی کرتی رہیں ، تاہم چھاپہ مار ٹیم کو مشین کے ذریعے مسلسل ہدایات مل رہی تھیں کہ کمرے میں سیل فون موجود ہے۔ دوبارہ تلاشی لینے پر اہلکاروں نے تکیے کے اندر چھپایا ہوا سیل فون برآمد کر لیا۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مریم نواز نیب کی حراست میں موبائل فون رکھتی تھیں۔ انہیں بستر جیسی مناسب سہولتیں دی گئی تھیں اور انہیں فرش پر کھانا نہیں دیا جا رہا تھا۔
فوٹیج سے پتہ چلتا ہے کہ ایک بھی مرد اہلکار ان کے کمرے میں داخل نہیں ہوا تھا۔ انکشاف ہوا ہے کہ مریم نواز نے خاتون ہونے کی وجہ سے اسنیپ چیکنگ سے استثنیٰ کا فائدہ اٹھایا اور وہ اپنے ساتھ موبائل لے جاتی تھیں۔
تحقیقات سے معلوم ہوا کہ مریم کو موبائل فون دینے میں پنجاب پولیس کی ایک خاتون اہلکار بھی ملوث تھی۔ نئی فوٹیج مسلم لیگ ن کی نائب صدر کے جھوٹے بیانات کو بھی بے نقاب کرے گی۔









