اشرافیہ کا احتساب: ارشد عزیز ملک کے دلائل پر شفا یوسفزئی کا جواب

ملک میں حکمرانوں اور طاقتور اشرافیہ کے عوامی احتساب کے بارے میں ارشد عزیز ملک کے نقطہ نظر سے اختلاف کرتے ہوئے شفا یوسفزئی نے جواب دیا۔

صحافی اور اینکر پرسن شفا یوسفزئی نے معروف انویسٹی گیٹو صحافی ارشد عزیز ملک کے ملک میں حکمرانوں اور مقتدر اشرافیہ کے عوامی احتساب کے بارے میں ان کے نقطہ نظر کے بارے میں اپنے نقطہ نظر سے جواب دیا ہے۔

یہ بحث اس وقت شروع ہوئی جب صحافی ارشد عزیز ملک نے اینکر پرسن معید پیرزادہ کی جانب سے حکمران اشرافیہ اور عوامی عہدے رکھنے والی طاقتور شخصیات کے بے رحمانہ احتساب کے ٹوئٹ پر ٹوئٹ کیا۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان خواتین کے حقوق کے حوالے سے بدترین ملک قرار

دعا زہرہ کیس میں بدنام زمانہ گوگا گینگ کے ملوث ہونے کا انکشاف

اینکر پرسن معید پیرزادہ نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ میں لکھا ہے کہ ” ٹیکس دہندگان کے پیسے پر پلنے والے پبلک آفس ہولڈرز عوام کے سامنے جوابدہ ہیں اور عوام کی طرف سے سیاستدانوں کے خلاف احتجاج جمہوریت کا حصہ ہے۔”

انہوں نے تنقید کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "عدالتوں کے پیچھے چھپنا پاکستانی سیاستدانوں کا وطیرہ ہے جبکہ جمہوریت خالصتاً ایک مغربی تصور ہے۔”

معید پیرزادہ نے مزید لکھا ہے کہ "اسٹیبلشمنٹ جمہوریت کو مغرب کے سامنے ایک اچھا چہرہ پیش کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔”

ایک اور ٹوئٹ میں اینکر پرسن معید پیرزادہ کا کہنا تھا کہ "پاکستانی سیاستدانوں اور دیگر سرکاری عہدہ داروں کا اور میڈیا والوں کا عدالتوں کے پیچھے چھپتے ہیں جو کہ احمقانہ سی بات لگتی ہے۔”

انہوں نے مزید لکھا ہے کہ "پبلک آفس ہولڈرز کو صبر کے ساتھ عوام کے اطمینان کے لیے اپنے خلاف الزامات کی وضاحت کرنے کی ضرورت ہے! مغربی رہنماؤں پر جب کوئی الزام لگتا ہے چاہے وہ غلط ہی کیوں نہ وہ اپنے عوام کو مطمئن کرتے ہیں!۔”

اینکر پرسن معید پیرزادہ کے ٹوئٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے انویسٹی گیٹو صحافی ارشد عزیز ملک نے لکھا ہے کہ ” معید پیرزادہ کا خیال  ہے کہ ہر شخص کو کسی  بھی سیاستدان کو چور اور  ڈاکو کہنے کی مکمل آزادی ہونی چاہئے حالانکہ اس کام کے لئے عدالتیں موجود ہیں لیکن ایسا خیبر پختون خوا میں ہوا تو ذاتی دشمنی بن جائے گی لوگوں کو تہذیب سکھائیں تخریب کی تعلیم نہ دیں۔”

شیفا یوسفزئی نے ارشد عزیز ملک کے دلائل کا مناسب انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ ” میں اپنا مقدمہ عدالت ہی لے کر گئی تھی۔ لیکن اطہر من اللہ صاحب نے سیکشن 20 پیکا ختم کر دیا اور گالم گلوچ بریگیڈ کو اوروں کی بیٹیوں کی عزتیں اچھالنے کی مزیدشہ دے دی، تو بڑے احترام کے ساتھ جب عدالتوں سے انصاف نہیں ملے گا تو پھر طاقت کا سر چشمہ تو اس ملک کے عوام ہی ہیں نا سر۔”

ارشد عزیز ملک نے شفا یوسفزئی کو جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ "آپ کے ساتھ ذیادتی ہوئی جو قابل مذمت ہے آپ نے یقینا ذہنی اذیت برداشت کی ہو گی ، اس کے باوجود اس غیر اخلاقی حرکت کی حمایت کررہی ہیں۔”

ارشد عزیز ملک بھیرہ ریسٹورنٹ کے واقعے کی طرف اشارہ کر رہے تھے "جہاں ایک خاندان نے پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل ن) کے رہنما اور وفاقی وزیر احسن اقبال کے سامنے ’چور چور‘ کے نعرے لگائے تھے۔”

شفا یوسفزئی نے مزید لکھا ہے کہ ” لُچے خود کو صحافی بتا کے اگر گالیاں نکالیں ، لوگوں کی بیٹیوں کی کردارکشی کریں وی لاگز میں تو وہ صحافت ہے ، لیکن عوام سوال کرے تو اخلاقیات کے درس؟؟؟ عدالتیں اگر کسی کو پوچھ رہی ہوتی تو عوام کو پوچھنا نہ پڑتا۔ میں ویسےعدالت ہی گئی اگر خیبر پختن خوا کا فارمولا لگاتے میرے گھر والے تو اس کی رائے ساری نکال دیتے۔”

شفا یوسفزئی نے اپنے خلاف کردار کشی کی مہم کی نشاندہی کی جو اسد علی طور نے شروع کی تھی۔

ہم نیوز کی اینکر پرسن شفا یوسفزئی نے پاکستانی صحافی اسد علی طور کے خلاف مقدمہ درج کرایا تھا جنہوں نے قابل اعتراض الفاظ استعمال کرکے ان کی ساکھ کو داغدار کرنے کی کوشش کی تھی۔

متعلقہ تحاریر