پی ٹی آئی نے نیب قوانین میں ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا

کیس کی سماعت کے لیے چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ تشکیل دے دیا گیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف نے نیب قوانین میں ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا ہے ، عدالت عظمیٰ نے کیس کی سماعت کل رکھ لی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے وکلاء کی جانب سے نیب قوانین میں ترامیم کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں چیلنج کردیا ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال نے کیس کی سماعت کے تین رکنی بینچ تشکیل دے دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ہمیں ڈرایا گیا تھا عدم اعتماد ناکام ہوئی تو فلاں سیٹ پر آجائے گا،جاوید لطیف

عمران خان کا فوری صاف و شفاف انتخابات اور چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں تین رکنی بینچ تشکیل دیا گیا ہے ، دیگر ججز میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منصور علی شاہ شامل ہیں۔

نیب قوانین میں ترامیم کا مسودہ متفقہ طور پر منظور

تین رکنی بینچ کل کسی بھی وقت کیس کی سماعت کرسکتا ہے۔ سپریم کورٹ رجسٹری سے تمام متعلقہ حکام کو نوٹسز جاری کردیئے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ قومی اسمبلی نے 26 مئی کو نیب قوانین میں ترامیم کا بل منظور متفقہ طور پر منظور کیا تھا جس کے مطابق ریمانڈ کی مدت 90 دن سے کم کر کے 14 روز کر دی گئی تھی۔

قومی احتساب بیورو آرڈیننس 1999 میں ترمیم کا بل منظور کیا گیا تھا ، جس کے تحت نیب کے اختیارات کو محدود کردیا گیا تھا۔

نئی ترمیم کے مطابق ملزم کی گرفتاری اس وقت تک نہیں ہوگی جب تک تفتیش مکمل نہیں ہو گی ، جبکہ ملزم کو ضمانت کی سہولت بھی حاصل ہوگی۔

ترمیم کے مطابق نیب اب 6 ماہ کی حد کے اندر انکوائری کا آغاز کرنے کا پابند ہوگا، اس سے پہلے نیب 4 سال تک انکوائری شروع نہیں کرتا تھا، نیب انکوائری کے لیے وقت کی حد کا پابند نہیں تھا۔

متعلقہ تحاریر