سعد رفیق اور دیگر رہنماؤں کی متضاد بیانات سے بھرپور پریس کانفرنس
وفاقی وزیر برائے ریلوے کا کہنا تھا بچہ جمورا بن کر آنے والا ووٹ کی عزت کی بات کرتا ہے۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور وفاقی وزیر برائے ریلوے اور ہوابازی خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے تمام اتحادیوں کا متفقہ فیصلہ ہے کہ وفاقی حکومت اپنی مدت پوری کرے گی ۔ پی ڈی ایم کا متفقہ فیصلہ ہے کہ وفاق سمیت تمام صوبائی حکومتیں اپنی اپنی آئینی مدت پوری کریں گی۔
پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ آج حکومت میں شامل تمام جماعتوں کے قائدین کا اہم اجلاس ہوا ، اجلاس میں پاکستان کی سیاسی اور معاشی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ، پاکستان کے مفاد میں مشکل وقت میں حکومت لی ، ہم اپنی مدت پوری کریں گے ، اس لیے ہم کہتے ہیں کہ ابہام پیدا کرنے اور شوشے چھوڑنے سے گریز کیا جائے۔
یہ بھی پڑھیے
ضمنی انتخابات:ن لیگ نے پی ٹی آئی سے 5سیٹیں چھینی، تحقیقاتی صحافی نے غلط فہمی دور کردی
آئی ایم ایف کے قرضے میں تاخیر، سعودی عرب پاکستان کی مدد کو آگیا
خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 63 اے کے سپریم کورٹ کے فیصلے پر ہمیں تحفظات ہیں۔ سپریم کورٹ میں نظرثانی شدہ درخواست دائر ہے ، عدالت سے استدعا ہے کہ جلد فیصلہ سنائے۔ پی ٹی آئی دور حکومت میں نظام انصاف سویا ہوا تھا ہمارے کیسز کے فیصلے نہیں آتے تھے۔ پارلیمان کے فیصلوں کا احترام کیا جائے ، اپنے اختیارات پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ نیب کے پرانے قوانین کی حمایت کرنے والا کسی صورت آئین اور جمہوریت کا دوست نہیں ہوسکتا ، قانون سازی پارلیمنٹ کا حق ہے ، اس میں مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
سعد رفیق نے مزید کہا کہ آج کے اجلاس میں یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ الیکشن کمیشن فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ کیوں نہیں کرتا؟ برسوں سے زیر التواء فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ ہونا چاہئے، 20 میں سے 15 سیٹیں پی ٹی آئی جیتی تو کہا گیا کہ الیکشن کمشنر جانبدار ہے، وہ استعفیٰ دے۔
ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کے ضمنی انتخابات میں ہم نے 20 میں سے 5 نشستوں پر کامیابی حاصل کی جس کا مطلب ہے کہ ہمارا ووٹ بینک بڑھا ہے ، 2018 کے عام انتخابات میں ان 20 نشستوں میں سے ایک بھی ن لیگ کو نہیں ملی تھی ، پنجاب کے ضمنی انتخابات کسی جماعت کی مقبولیت کا پیمانہ نہیں ہے۔
وفاقی وزیر برائے ریلوے کا کہنا تھا بچہ جمورا بن کر آنے والا ووٹ کی عزت کی بات کرتا ہے ، عمران خان ایک گمراہ آدمی ہے اس نے گمراہ لوگوں کا ایک گروہ تیار کررکھا ہے ، ہمیں پیچھے ہٹنا اور سیاست بچانا آتا ہے ، عمران خان ایک گمراہ شخص ہے جس پر شیاطین اترتے ہیں۔
خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا ہمارے لیے پیچھے ہٹنا اور اپنا سیاست بچانا ہمیں خوب آتا ہے ، ہمیں اس کام کی سمجھ ہے ، ہم نے سیاست میں کام ہی یہی کیا ہے ، مگر ہم نے یہ نہیں کیا ، ہم نے پاکستان کے بڑے فائدے کے لیے یہ حکومت کا کانٹوں کا ہار اپنے گلے ڈالا ، یہ کوئی پھولوں کی سیج نہیں ہے ، ہمیں اس وقت بھی معلوم تھا ، ہم سب وہ سیاسی پارٹیاں ہیں جنہوں نے کسی نہ کسی شکل میں حکمرانی کی ہے ، ہمیں ان چیزوں کا تجربہ تھا ، ہمیں معلوم تھا کہ آگے مائنز لگی ہوئی ہیں ، آگے خطرات ہیں ، لیکن کیا کریں ہم اپنے ملک کو چھوڑ کر بھاگ جاتے کیا ؟ اپنے ملک کو چھوڑ کر بھاگا نہیں جاسکتا۔
عمران خان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ دوسروں کو چیری بلاسم کہتا ہے خود سر سےپاؤں تک خوشامدی ہے ، ہماری قیادت نے جمہوریت کے لیے قربانیاں دیں ، یہ صرف اور صرف آوارہ گردی کرتا ہےِ۔ عمران خان حکومت میں صحافیوں کو زنجیریں پہنائی گئیں ، عمران خان نے ہمیشہ امپائر کے ساتھ ملکر میچ کھیلا ، عمران خان کو مرضی کا چیف جسٹس ، چیف الیکشن کمشنر ، آرمی چیف اور مرضی کا صدر چاہیے۔
وفاقی وزیر کا کہنا تھا عمران خان نے سب سے پہلے مشرف کے جوتے پالش کیے ، عمران خان سوشل میڈیا ورکرز پر کروڑوں روپے خرچ کررہا ہے یہ پیسہ کہاں سے آتا ہے؟ جب کسی عدالت سے اس کی مرضی کافیصلہ نہیں آتا تو کہتا ہے کہ ملک کے ٹکڑے ہوجائیں گے، بہت بڑے بڑے سازشی دیکھے مگر عمران جیسا سازشی نہیں دیکھا۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میاں افتحار حسین کا کہنا تھا کہ ملکی مفاد میں اتحاد جماعتیں متحد ہیں۔ ان کا کہنا تھا عمران نیازی نے نئی نسل کو گمراہ کیا، دوسروں کو طعنہ دینے والے عمران نیازی کے اپنے بچے ملک سے باہر ہیں، عمران نیازی نے ہمارے کلچر کو تباہ کر دیا، عمران نیازی تباہی کا ایجنڈا پورے ملک میں پھیلا رہا ہے۔
خیال رہے کہ 17 جولائی کو پنجاب کی 20 نشستوں میں ہونے والے ضمنی الیکشن میں تحریک انصاف کو 15 اور ن لیگ کو 4 نشستوں پر کامیابی ملی تھی جبکہ ایک آزاد امیدوار کامیاب ہوا تھا۔شکست کی وجوہات جاننے اور آئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی سربراہی میں آج اتحادی جماعتوں کا اجلاس طلب کیا گیا تھا۔









