منی لانڈرنگ کیس، وزیراعظم اور حمزہ شہباز پر فردجرم 7 ستمبر کو عائد ہو گی

ایف آئی اے نے ملک مقصود کی ڈیٹھ رپورٹ اور وزیراعظم کے صاحبزادے سلمان شہباز کے بینک اکاؤنٹس کا ریکارڈ بھی جمع کرا دیا ہے۔

عدالت نے وزیر اعظم شہباز شریف ، حمزہ شہباز سمیت دیگر ملزمان کے خلاف منی لانڈرنگ کیس میں فردجرم عائد کرنے کے لیے 7 ستمبر کو طلب کر لیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپیشل کورٹ سینٹرل لاہور میں وزیر اعظم شہباز شریف ، حمزہ شہباز سمیت دیگر کے خلاف منی لانڈرنگ کیس کی سماعت ہوئی ، امروزہ پیشی میں وزیراعظم شہباز شریف اور سابق وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ شہباز شریف اور حمزہ شہباز کے وکیل امجد پرویز نے آجکی حاضری معافی کی درخواست دائر کر دی،  وکیل حمزہ شہباز نے کہا کہ حمزہ شہباز کی کمر میں شدید تکلیف ہے ، میڈیکل رپورٹ بھی درخواست کی سارھ لگائی ہے ۔

وکیل شہباز شریف امجد پرویز نے کہا کہ شہباز شریف کو سفر سے منع کیا گیا انکی طبیعت ٹھیک نہیں ہے ، کل موسم خراب تھا اس لیے بھی شہباز شریف نہیں آ سکے۔

ایف آئی اے وکیل نے حاضری معافی کی درخواست پر کہا کہ شہباز شریف کی حاضری معافی کی درخواست پر کوئی اعتراض نہیں ، میڈیکل رپورٹس ساری لف ہیں میں حاضری معافی کی درخواست کی مخالفت نہیں کروں گآ۔

دوسری طرف ایف آئی اے نے ملک مقصود کی ڈیتھ رپورٹ عدالت میں جمع کرا دی اور وکیل ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ نادرا سے تصدیق کے بعد ریکارڈ جمع کرا رہے ہیں ملک مقصود وفات پا گئے ہیں ۔ جس پر عدالت نے ملک مقصود کی حد تک کیس کی کاروائی ختم کر دی۔

وکیل ایف آئی اے نے کہا کہ سلمان شہباز کے 19 بینک اکاؤنٹس کا ریکارڈ مل گیا ہے 7 بینکس کا ریکارڈ آنا باقی ہے۔ کچھ اداروں کو لکھا ہوا ہے ابھی ان سے بھی ریکارڈ آنا ہے۔ سلمان شہباز کی جن جائیدادوں کا ریکارڈ مل گیا تھا وہ جمع کرا دیا ہے۔

عدالت نے 7 ستمبر 2022 کو شہباز شریف اور حمزہ شہباز کو فرد جرم کے لیے طلب کر لیا ، شہباز شریف اور حمزہ شہباز سمیت دیگر کے خلاف منی لانڈرنگ کیس کی سماعت 7 ستمبر تک ملتوی کر دی گئی جبکہ عدالت نے شہباز شریف اور حمزہ شہباز کی حاضری معافی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔

متعلقہ تحاریر