پی ٹی آئی کا احتجاج، ریڈزون میں بدانتظامی سے گاڑیوں کی قطاریں
ریڈ زون میں داخلے کے لیے صرف مارگلہ روڈ محدود پیمانے پر کھلا ہے۔ مارگلہ روڈ ،دو رویہ شاہ راہ ہے مگر ایک طرف کی سڑک کنٹینرز لگا کر بند کردی گئی ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے الیکشن کمیشن کے خلاف آج احتجاج کے اعلان کے بعد وفاقی دارالحکومت کے ریڈزون کے داخلی راستے کنٹینرز لگاکر بند کردئیے گئے۔ پہلی بار ریڈزون کے اندر بھی رکاوٹیں کھڑی کردی گئی جس کی وجہ سے شدید بدنظمی دیکھنے میں آئی اور گاڑیوں کی طویل قطاریں لگی ہوئی ہیں۔
ریڈزون آنے والی تمام شاہراہیں جن میں سرینا چوک، نادرہ چوک، الیکشن کمیشن اور دیگر راستے شامل ہیں ، کنٹینرز اور خاردار تار لگا کر بند کر دئیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
وفاق اور پنجاب میں گرفتاریوں کا مقابلہ شروع ہونے کو ہے
ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ: وفاقی وزراء اور اتحادی رہنماؤں کی پریس کانفرنسز کا سلسلہ جاری
مظاہرین یا کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو ریڈزون میں داخلے کی اجازت نہیں۔ ریڈزون سے ملحقہ ڈپلومیٹک انکلیو میں بھی سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔
ریڈ زون میں داخلے کے لیے صرف مارگلہ روڈ محدود پیمانے پر کھلا ہے۔ مارگلہ روڈ ،دو رویہ شاہ راہ ہے مگر ایک طرف کی سڑک کنٹینرز لگا کر بند کردی گئی ہے اور ایک ہی سڑک آنے اور جانے کےلئے استعمال کی جارہی ہے۔جہاں گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں اور چند منٹ کا راستہ طے کرنے میں پونے گھنٹے سے ایک گھنٹے تک وقت صرف ہورہا ہے۔
ایس سے قبل بھی ریڈ زون آنے والے راستے سیکڑوں مرتبہ سیل کئے جاچکے ہیں جبکہ موجودہ حکومت کے دور میں ریڈ زون آنے والے راستے زیادہ تر بند ہی رہتے ہیں اور مہینوں سے یہاں کنٹینرز موجود ہیں مگر اس مرتبہ ریڈ زون کے اندر بھی رکاوٹیں کھڑی کرکے شاہراہ دستور بھی جگہ جگہ سے بند کردی گئی ہے اور بعض مقامات پر پیدل جانے کی بھی اجازت نہیں ہے۔پہلی مرتبہ ریڈ زون میں لگائی گئی ان رکاوٹوں کی وجہ سے ریڈ زون میں بدنظمی دیکھنے میں آئی اور شناخت ظاہر کرکے محدود تعداد میں آنے والی گاڑیاں کی بھی قطاریں لگ گئیں۔اس صورتحال کے سبب بہت سے سائلین سپریم کورٹ جبکہ مختلف اداروں میں کام کرنے والے ملازمین سرکاری دفاتر میں نہیں پہنچ سکے۔ پارلیمنٹ جانے والے راستے بھی بند کردیے گئے ہیں جبکہ الیکشن کمیشن کے سامنے بھی بڑی تعداد میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی بڑی تعداد تعینات کی گئی ہے۔
ریڈ زون کے قریب واقع کئی راستے بھی رکاوٹیں کھڑی کرکے بند کر دیئے گئے ہیں جس کے سبب ساری ٹریفک کی آمد و رفت کے لئے صرف چند راستے کھلے ہونے کے سبب شہریوں کو آب پارہ اور دیگر کاروباری مراکز ،دفاتر اور گھروں کو جانے میں شدید رش کے سبب مشکلات کا سامنا ہے۔ٹریفک کا نظام درہم برہم ہونے پر شہریوں نے غم وغصہ کا اظہار کیا ہے۔
ریڈزون میں کئی اہم عمارتیں واقع ہیں۔ جن میں پارلیمنٹ ہاؤس یعنی ایوان بالا اور ایوان زیریں ، سپریم کورٹ ، وفاقی شرعی عدالت ، ایوان صدر ، ایوان وزیراعظم ، وزیراعظم سیکریٹریٹ ، پاک سیکرٹریٹ ، پارلیمنٹ لاجز ، دفتر خارجہ ، فیڈرل بورڈ آف ریونیو ، وفاقی محتسب ، ٹیکس محتسب ، قومی احتساب بیورو ، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی ، پاکستان ٹیلی ویژن ہیڈکوارٹرز ، ریڈیو پاکستان ، مختلف ممالک کے سفارت خانے اور دیگر اہم عمارتیں شامل ہیں۔
جناح ایونیو سے ریڈزون میں ڈی چوک آنے والے راستے پر نصب گیٹ بھی کئی روز سے بند ہیں اور وہاں کنٹینرز بھی لگائے گئے ہیں۔
ریڈ زون میں اینٹی رائٹس فورس، رینجرز، ایف سی اور پولیس تعینات کی گئی ہے۔









