پاکستان میں میڈیا اور صحافیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا جارہا ہے، پامیلا کانسٹیبل
امریکی صحافی پامیلا کانسٹیبل نے کہا اے آر وائے نیوز پر عمران خان کے قابل اعتماد ساتھی کے فوج مخالف تبصرے کے بعد نیوز چینل پر پابندی عائد کی گئی جبکہ 2 صحافی بیرون ملک چلے گئے اور دیگر تاحال دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں

امریکی صحافی پامیلا کانسٹیبل کا کہناہے کہ پاکستان میں حکومت اور سابق وزیراعظم عمران خان کے درمیان اقتدارکی کشمکش میں اضافہ ہوتا جارہا ہے جبکہ وفاقی حکومت نے میڈیا کے خلاف بھی کریک ڈاؤن شروع کردیا ہے۔
امریکی صحافی پامیلا کانسٹیبل کے واشنگٹن پوسٹ میں شائع ایک مضمون میں پاکستان کے موجودہ سیاسی حالات کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ پامیلا کا کہنا ہے کہ پاکستان میں سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے جبکہ ملک میں میڈیا کے خلاف بھی کریک ڈاؤن جاری ہے ۔
یہ بھی پڑھیے
پاکستانی الیکشن نتائج عمران خان کی اقتدار میں واپسی کے اشارے ہیں، پامیلا کانسٹیبل
پامیلا کے مضمون میں کہا گیا ہے کہ عمران خان کے حامی ٹی وی چینل اے آر وائے نیوز کے ایک ٹاک شو میں فوج مخالف تبصرے پر تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل کو گرفتارکرلیا گیا جبکہ چینل پر پابندی عائد کی گئی ۔
امریکی صحافی کے مطابق شہباز گل کے فوج مخالف بیان کے بعد چینل کو زبردستی بند کیا گیا جبکہ اس کے 2 اینکر ملک چھوڑ کر بیرون ملک چلے گئے ہیں جبکہ دیگر صحافی بھی دباؤ کا شکار ہیں ۔
پامیلا نے لکھا کہ عمران خان کے قابل اعتماد ساتھی شہباز گل کے وکلاء کے مطابق فوج مخالف بیان پر گرفتار کرنے کے بعد ان پر جیل میں تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے تاہم انہیں بدھ کے روز اسپتال منتقل کیا گیا۔
واشنگٹن پوسٹ کے مضمون میں کہا گیا ہے کہ اپریل میں وزارت عظمی پر فائز ہونے والے شہبازشریف نے معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے کوئی خاص پیش رفت نہیں دکھائی جس کے باعث مہنگائی آسمان پر پہنچ گئی ہے ۔
دوسری جانب سابق وزیراعظم عمران خان بڑے پو جوش انداز میں اپنی سیاسی مہم چلارہے ہیں۔ عمران خان اپنی انتخابی ریلیوں میں حکومت مخالف تقریروں سے عوام کو اپنی جانب راغب کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
مضمون میں کہا گیا کہ موجودہ آرمی چیف پاکستان میں سب سے طاقتور شخص سمجھے جانے والے ہیں جوکہ اگلے تین ماہ میں ریٹائر ہونے والے ہیں اور ان کی تبدیلی کے عمل نے افواہوں اور تنقید کا ایک طوفان کو جنم دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
مصطفیٰ نواز کھوکھر کی شہباز گل پر تشدد کی مذمت، شہباز شریف کو بے بس کہہ دیا
پامیلا کانسٹیبل نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے سیاسی معاملات سے دور رہنے کا عزم کیا تاہم وہ بھی مشکلات کا شکار دکھائی دے رہی ہے ۔ پی ٹی آئی کے حامیوں کی جانب سے مسلسل ان پر تنقید کی جا رہی ہے ۔
پامیلا نے اپنے مضمون میں کہا کہ بلوچستان میں سیلا ب زدہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں میں مصروف فوجی ہیلی کاپٹر حادثے کے بعد ایک گھٹیا آئن لائن مہم چلائی گئی جس پر افواج اور شہداء کے اہلخانہ کو ردعمل کو اکسایا ۔
عمران خان کے حامی ٹی وی چینل اے آر وائے پر ان کے معاون خاص شہباز گل نے کھلےعام فوجی نظم و ضبط کو چیلیج کرتے ہوئے اعلیٰ افسران کے احکامات کی پیروی نہ کرنے کی تلقین کی ۔
شہباز گل نے کہا کہ آپ جانور یا پاگل نہیں ہیں۔ جب کوئی آرڈر ملتا ہے تو آپ کو اپنی اقدارکو جاننے کی ضرورت ہوتی ہے۔اعلیٰ افسران کے احکامات کی بجائے اپنے ضمیر کی پیروی کریں۔
واشنگٹن پوسٹ کے مضمون میں کہا گیا کہ شہباز گل کے تبصرے کے فوراً بعد انہیں نفرت انگیز اور فتنہ پھیلانے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے گرفتار کیا گیا جبکہ نیوز چینل کی سیکیورٹی کلیئرنس واپس لے لی گئی ۔
پامیلا کے مطابق پاکستانی اور بین الاقوامی میڈیا اداروں نے شہباز گل اور اے آر وائی کے ساتھ ہونے والے سلوک کی مذمت کی۔ انگریزی زبان کے ایک بااثر روزنامہ ڈان اخبار نے متنبہ کیا کہ کریک ڈاؤن "ایک خطرناک مثال قائم کرسکتا ہے۔
رپورٹرز ودآؤٹ بارڈرز کے ایشیا پیسیفک کے ڈائریکٹر ڈینیئل باسٹرڈ نے کہا کہ پاکستانی حکومت بے وقوفی نہ کرے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی فوج کا صحافیوں پر ہمیشہ دباؤ رہتا ہے ۔ قانون کی حکمرانی کی ساکھ خطرے میں ہے۔









