پاکستانی سفارت خانے نے جنگ زدہ یوکرین میں اپنے شہریوں کو بے آسرا چھوڑ دیا
کیف میں پاکستانی ایمبیسی نے ایک ٹوئٹ کے ذریعے پاکستانیوں کو یوکرین چھوڑنے کا ہدایت کی تو جنگ زدہ ملک میں پریشان شہریوں نے سفارتی عملے کو نااہل کہتے ہوئے کہا کہ اپنے شہریوں کو نکالنے کے اقدامات کرنے کے بجائے صرف ایک سادہ سا پیغام جاری کرکے آپ اپنے فرائض سے مبرا نہیں ہوسکتے ہیں

کیف میں پاکستان کے سفارت خانے کے حکام نے یوکرین میں موجود پاکستانی شہریوں کو کشیدہ صورتحال کے پیش نظر فوری ملک چھوڑنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ پاکستانی سفارت خانے نے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل پر یہ الرٹ جاری کیا۔
کیف میں پاکستانی سفارت خانے نے سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئٹر پر اپنے آفیشل اکاؤنٹ کے ذریعے یوکرین میں موجود تمام پاکستانی شہریوں کو جنگ زدہ ملک فوری طور پر چھوڑنے کی ہدایات جاری کیں ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
برطانوی فضائیہ پاکستانی اڈوں کے ذریعے یوکرین کو دفاعی امداد فراہم کررہی ہے؟
یوکرین میں مقیم پاکستانی شہریوں اور طلباء نے سفارت خانے کے ایک سادہ سے پیغام پر شدید ردعمل ظاہرکیا۔ شہریوں نے پوچھا کہ کیا آپ جنگ زدہ ملک میں موجود اپنے شہریوں کو اس طرح ہدایات جاری کریں گے ؟۔
Important Announcement pic.twitter.com/V6Dh4QOkNt
— Pakistan Embassy Ukraine (@PakinUkraine) August 23, 2022
پاکستانی شہریوں نے سفارتی عملے کو سخت سست قرار دیتے ہوئے کہا کہ جنگ زدہ ملک سے اپنے شہریوں کو نکالنے کے اقدامات کرنے کے بجائے صرف ایک سادہ سا پیغام جاری کرکے آپ اپنے فرائض سے مبرا نہیں ہوسکتے ہیں۔
جنگ زدہ ملک میں مشکلات حالات میں پھنسے پاکستانیوں نے سفارت خانے کو چائنا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ کس طرح بیجنگ نے اپنے شہریوں کو باعزت و باحفاظت یوکرین سے نکال کر پولینڈ، سلواکیہ اور مالڈووا منتقل کیا۔
پاکستانی شہریوں نے کہا کہ سفارت خانے کے حکام بیرون ملک اپنے شہریوں کی حفاظت کے لیے ہرممکن اقدام اٹھاتے ہیں جبکہ پاکستانی سفراء صرف ٹوئٹر اور سوشل میڈیا پر پیغامات جاری کرکے اپنے فرائض نبھانے کی کوشش کررہے ہیں۔
یوکرین میں موجود کچھ پاکستانیوں نے کیف میں موجود پاکستانی سفیر سےاستعفے کا مطالبہ بھی کیا۔ شہریوں نے کہا کہ لگتا ہے انکی تقرری غیر قانونی طورپر ہوئی ہے اسی لیے اپنی قوم کی پریشانی کو بھول چکے ہیں ۔
ایک ٹوئٹر صارف نے سوال پوچھا کیا یہ ایمبیسی کا اصل ٹوئٹر اکاؤنٹ ہے؟ اگر یہ اصل اکاؤنٹ ہے تو یہ کس قسم کا زبان کا استعمال کیا گیا ہے۔ کیا کوئی سفارتخانہ اس طرح کی زبان استعمال کرنے کا مجاز ہے؟۔
کیا یہ فیک پیج ہے؟! اگر نہیں تو یہ کس قسم کی زبان ہے؟! کیا کوئی سفارتخانہ اس طرح کی زبان استعمال کرنے کا مجاز ہے؟! @ForeignOfficePk@BBhuttoZardari pic.twitter.com/I7CoflgqF1
— د. راسخ الكشميري (@Raasikh) August 23, 2022
ایک صارف سفارت خانے پر طنز کرتے ہوئے پوچھا اتنی جلدی یاد آگیا ۔ پاکستانی ایمبیسی کے لیے شرم کا مقام ہے وہ جنگ زدہ ملک میں موجود اپنے شہریوں سے کہے یہاں سے نکل جاؤ اور کسی مدد کی امید نہ رکھو ۔
ایک سوشل میڈیا صارف نے کہا کہ ہمارا امپورٹڈ وزیراعظم مانگنے گیا ہے اورحکومت کے پاس اتنا وقت ہے نا وسائل کے وہ اپنے ملک میں ہی رہنے والے شہریوں کی حفاظت کر سکے اس لیے یوکرین میں بسنے والے پاکستانی ہم سے کسی قسم کی امید نہ رکھیں۔
ہمارا امپورٹڈ بھکاری وزیراعظم مانگنے گیا ہے اور حکومت کے پاس اتنا وقت ہے نا وسائل کے وہ اپنے ملک میں ہی رہنے والے شہریوں کی حفاظت کر سکے اس لیے یوکرین میں بسنے والے پاکستانی ہم سے کسی قسم کی امید نہ رکھیں۔
مطلب جاگدے رہنا ، ساڈے تے نہ رہنا#PakistanUnderFascism #ImranKhan— دیسی گوری 🌟 (@Desi_Gori1) August 23, 2022
واضح رہے کہ پاکستانی سفارت خانے سے اپنے شہریوں کے لیے الرٹ ایک ایسے موقع پر جاری کیا گیا جب امریکا نے یوکرین کے یوم آزادی کے موقع روس کی جانب سے بڑے حملے سے امکان سے خبر دار کیا ۔
امریکی سفارت خانے اپنے شہریوں کو یوکرین پر روسی حملے سے آگاہ کرتے ہوئے ان سے اپیل کی تھی کہ اگر ہوسکے تو یوکرین سے چلے جائیں۔
کیف نے روسی حملے کے پیش نظر سوویت حکمرانی سے آزادی کی سالگرہ کے موقع پر دارالحکومت میں عوامی تقریبات پر پابندی عائد کردی ہے۔









