احسن اقبال نے جنگ گروپ کی 2010 کی چندہ مہم پر کرپشن کے الزامات لگا دیئے

سماجی حلقوں نے وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی کو مشورہ دیا ہے کہ اگر آپ کو یقین ہے کہ "پکار" کے نام پر جمع ہونے والے پیسے میں کرپشن ہوئی تھی تو آپ کو جنگ گروپ اور عمران خان پر مقدمہ کرنا چاہیے۔

وفاقی وزیر احسن اقبال نے بغیر تحقیق کیے ایک مرتبہ پھر چیئرمین تحریک انصاف عمران خان پر کرپشن کے الزامات لگا دیئے ہیں دیکھنا یہ ہے کہ یہ الزامات وفاقی وزیر نے عمران خان پر لگائے ہیں یا میر خلیل الرحمان فاؤنڈیشن پر لگائے ہیں۔

سابق وزیراعظم اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان آج سیلاب زدگان کی مدد کے لیے بین الاقوامی سطح پر ٹیلی تھون کرنے جارہے ہیں جس پر احسن اقبال نے پُھبتی کَسی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ترکی، ایران اور یو اے ای اور آذربائیجان کے صدور کی سیلاب زرگان کے لیے ہر ممکن مدد کی یقین دہانی

ملک بھر میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری، مزید 119 افراد جاں بحق ، 71 سے زائد زخمی

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام شیئر کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا ہے کہ ” اسکا ٹیلی تھون کا انجام بھی وہی ہو گا جو 2010 میں پکار کے نام سے ٹیلی تھون کا ہوا تھا۔ سیلاب کے نام پہ پیسہ لیا مگر کسی کو نہیں پتہ وہ پیسہ کہاں گیا۔”

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اور ترقی نے مزید لکھا ہے کہ "اس شخص کو موقع چائیے چندہ اکھٹا کرنے کا چندہ اکٹھا کرنے میں چیمپین ہے، مگر اس کی سیاست اور ذات کی نظر ہو جاتا ہے۔”

ایک اور ٹوئٹ میں وفاقی وزیر احسن اقبال لکھتے ہیں کہ "2010 کے سیلاب کے موقع پہ عمران نیازی نے ان کا کاندھا استعمال کر کے جنہیں آج وہ برا بھلا کہتا ہے اربوں روپے سیلاب ذدگان کے نام پہ جمع کئے اور وعدہ کیا کہ وہ لاکھوں مکان بنائے گا، کھاد بیج کسانوں میں تقسیم کرے گا آج تک کسی نے وہ مکان دیکھے نہ ہی کسی غریب کو کھاد اور بیج نصیب ہوئے۔”

سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ احسن اقبال صاحب کو پہلے تحقیق کرلینی چاہیے تھی کہ عمران خان نے وہ ٹیلی تھون اپنے لیے کی تھی یا میر خلیل الرحمان فاؤنڈیشن کے لیے تھی۔ پکار کے نام سے 2010 میں جو ٹیلی تھون کی گئی تھی وہ میر خلیل الرحمان فاؤنڈیشن کے زیراہتمام کی گئی تھی ، پیسہ سارا جنگ گروپ کے اکاؤنٹ میں آیا تھا ، اگر پیسہ کرپشن کی نذر ہوا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ پیسہ خلیل الرحمان فاؤنڈیشن کھا گئی ، عمران خان کیسے کھا سکتا ہے ، کیونکہ اکاؤنٹ تو جنگ گروپ کا استعمال ہوا تھا۔

سماجی حلقوں نے وفاقی وزیر احسن اقبال کو مشورہ دیا ہے کہ اگر آپ کو یقین ہے کہ "پکار” کے نام پر جو ایک ارب روپے سے زائد رقم جمع ہوئی تھی وہ کرپشن کی نذر ہو گئے تھے تو پھر آپ کو عمران خان اور میر خلیل الرحمان فاؤنڈیشن پر کیس بنانا چاہیے ، آج تو آپ حکومت میں بھی تو آپ کو کیا مسئلہ ہے ، کیس کردیں۔ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔

متعلقہ تحاریر