پنجاب میں بلدیاتی انتخابات، الیکشن کمیشن نے پرویز الہٰی حکومت کو بڑا حکم دے دیا

ای سی پی آئین کے آرٹیکل 140-A اور الیکشنز ایکٹ کی دفعہ 219(4) کے تحت لوکل گورنمنٹ اداروں کی میعاد کے اختتام کے 120 دن کے اندر انتخابات کروانے کا پابند ہے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پنجاب حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ صوبے میں بلدیاتی انتخابات کے فوری انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرے۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کا پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کرانے کے حوالے سے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیرصدارت اجلاس ہوا۔

یہ بھی  پڑھیے

این اے 108 اور 118 کے ضمنی انتخابات، پوسٹل بیلٹ پیپر کے ذریعے درخواستین موصول کرنے کی تاریخ مقرر

اس موقع پر چیف الیکشن کمشنر نے چیف سیکرٹری پنجاب پر واضح کیا کہ صوبائی حکومت آئینی ، قانونی اور سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت صوبہ میں فوری الیکشن کروانے کی پابند ہے۔

Election Commission of Pakistan

انہوں نے چیف سیکرٹری پنجاب سے کہا کہ وہ صوبائی حکومت کو الیکشن کمیشن کی طرف سے متنبہ کرے کہ وہ صوبہ میں فوری انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنائے۔

الیکشن کمیشن کو لوکل گورنمنٹ رولز ، یونین کونسلوں اور وارڈوں کی تعداد ، مخصوص نشستوں کی تعداد ، ضروری نقشہ جات اور دیگر دستاویزات فوری مہیا کرے تاکہ الیکشن کمیشن آئینی ذمہ داریوں سے عہدہ براہ ہوسکے۔

سیکرٹری الیکشن کمیشن نے اپنی بریفنگ میں بتایا کہ صوبائی حکومت نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2022 کی کاپی الیکشن کمیشن کو اپنی تجاویز کے حصول کے لئے بھجوائی تھی جس پر ای سی پی نے تجاویز دے دی تھیں۔

اسپیشل سیکرٹری الیکشن کمیشن نے بتایا کہ حکومت پنجاب  نے لوکل گورنمنٹ ادارے اپریل 2019 میں تحلیل کر دیئے  تھے اور سپریم کورٹ کے حکم کے بعد وہ دوبارہ بحال  ہوئے تھے تاہم ان کی معیاد بھی 31 دسمبر 2021 کو ختم ہوچکی  ہے۔

صوبائی حکومت وقتاً فوقتاً قوانین میں تبدیلی کرتی رہی ہے جس کی وجہ سے الیکشن کا انعقاد ممکن نہیں ہو رہا۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ الیکشن کمیشن آئین کے آرٹیکل 140-A اور الیکشنز ایکٹ کی دفعہ 219(4) کے تحت لوکل گورنمنٹ اداروں کی میعاد کے اختتام کے 120 دن کے اندر انتخابات کروانے کا پابند ہے۔

ڈائریکٹر جنرل لاء نے الیکشن کمیشن کو بتایا کہ سپریم کورٹ  نے پنجاب میں لوکل گورنمنٹ کے انعقاد کے لئے واضح  احکامات جاری کئے ہیں اور بروقت الیکشن نہ کروانے سے نہ صرف آئین اور قانون بلکہ معزز عدالت سپریم کورٹ کے حکم کی بھی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔

متعلقہ تحاریر