اینکر صدف عبدالجبار زیر عتاب، پہلی بار خاتون اینکر پر مقدمہ درج

اسلام آباد ہائیکورٹ کا اے آر وائی کی نشریات ایک گھنٹے میں پرانے نمبر پر بحال کرنیکا حکم، چیف جسٹس اطہر من اللہ کا پیمرا افسران پر اظہار برہمی، چیئرمین پیمرا ذاتی حیثیت میں طلب

ملک کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت پاکستان تحریک انصاف کے جلسوں کی کوریج کے باعث حکومتی عتاب کا شکارنیوز چینل  اے آر وائی نیوز کی خاتون اینکر  صدف عبدالجبار کیخلاف بھی مقدمہ درج کرلیا گیا۔

 یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان میں کسی خاتون ٹی وی اینکر کے خلاف  ایف آئی آر درج کی گئی  ہے تاہم  ایف آئی آر کی تفصیلات ابھی ظاہر نہیں کی گئیں۔

یہ بھی پڑھیے

مجھے کچھ ہوا تو رجیم چینج کے چار کرداروں کو عوام نہیں چھوڑے گی، عمران خان

شوکت ترین کی طرح عمران خان کیخلاف بھی ثبوت تیار ہیں، عمر چیمہ کا دعویٰ

ذرائع کے مطابق صدف عبدالجبار کو  شہباز گل کی گرفتاری کی قانونی حیثیت اور عمران خان کی زیرقیادت تحریک انصاف کیخلاف انتقامی کارروائیوں پر سوال اٹھانے کی پاداش میں حکومت کی غیر علانیہ سنسرشپ کا شکار ہوئی ہیں۔

ٹی وی اینکر نے اپنے ایک  ٹوئٹ میں اپنے  خلاف ایف آئی آر کے اندراج کی تصدیق کی ہے۔انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ اے آر وائی نیوز کو بند ہوئے تقریباً ایک مہینہ ہو گیا ہے۔ سندھ ہائی کورٹ  کے حکم کے باوجود  ٹرانسمیشن بحال نہیں ہو سکی ہے  اور تازہ ترین  پیش رفت یہ ہے کہ انہوں نے میرے خلاف ایف آئی آر درج کرائی ہے۔

 دوسری جانب  اسلام آباد ہائیکورٹ نے  پیمرا کو اے آر وائی نیو زکی نشریات ایک گھنٹے میں بحال کرنے کا حکم دیدیا۔عدالت نے نشریات بحال نہ کرنے پر چیئرمین پیمرا کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔

پیمرا حکام نے موقف اپنایا کہ چینل ہم نے بند نہیں کیا ۔چیف جسٹس اطہر من اللہ  نے ریمارکس دیے کہ عدالت کے ساتھ گیم  کھیلنا بند کریں، چینل ایک گھنٹے میں  پرانے نمبر پر بحال کریں، آپ نے کہہ دیا کہ چینل آپ نے بند نہیں کیا تو آپ کا بیان آگیا۔یہاں 4 ہزار افراد  ملازم ہیں، ان کی بنیادی زندگی خطرے میں ہے۔

عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 8اگست سے چینل بند ہے، آپ نے بند کیا تو بحال کیوں نہیں کیا؟ پیمرا کے وکیل نے کہا کہ کیبل آپریٹرز کو شوکاز نوٹس جاری کرچکے ہیں۔ چیف جسٹس نے سوال کیا کہ آپ کہنا چاہ رہے ہیں کہ ملک کیبل آپریٹرز چلا رہے ہیں؟ابھی جاکر چینل کو پرانی پوزیشن پر بحال کریں۔

متعلقہ تحاریر