وفاقی حکومت نے سیلاب متاثرین کے لیے امدادی رقم 70 ارب روپے تک بڑھا دی

وزیراعظم نے کہا کہ سیلاب سے جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کو دس لاکھ روپے فی کس تقسیم کا عمل بھی جاری ہے، اس کے لئے این ڈی ایم اے کو پانچ ارب روپے دیئے جا چکے ہیں

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ وفاق کی سطح پر متاثرین کو فی گھرانہ 25 ہزار روپے کی تقسیم کے لئے رقم 70 ارب روپے تک بڑھائی گئی ہے، سوات کے علاقے میں ہونے والا نقصان ”مین میڈ“ ہے، کاش دن رات لیکچر دینے والوں نے اس تباہی کا حل نکالا ہوتا۔

وزیراعظم شہباز شریف کا وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ وفاقی حکومت متاثرہ گھرانوں کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے اعدادوشمار اور این ڈی ایم اے کے ذریعے 70 ارب روپے تقسیم کر رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

اے آر وائے چینل پر گھر جیتنے والا شہری5سال بعد بھی انعام نہ ملنے پر عدالت پہنچ گیا

دہشتگردی مقدمہ: چالان رک گیا ، عمران خان شامل تفتیش ہوں ، اسلام آباد ہائی کورٹ

ان کا کہنا تھا کہ صوبہ سندھ کے لئے 15 ارب روپے، بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے لئے 10، 10 ارب روپے اور گلگت بلتستان کے لئے تین ارب روپے اس کے علاوہ ہیں۔

ان کا کہنا تھاکہ قدرتی آفات کے نقصانات سے بچنے کے لئے تمام حکومتوں اور اداروں کو مل کر حکمت عملی اپنانا ہو گی، سیلاب اور بارشوں کے متاثرین کے لئے دنیا بھر سے امداد پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں ، یہ سیاست نہیں خدمت کا وقت ہے، سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے حقائق دنیا تک پہنچانے کے لئے عالمی اور مقامی میڈیا اور وفاقی وزراء مریم اورنگزیب اور شیری رحمان کا نمایاں کردار ہے جس پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ سیلاب سے جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کو دس لاکھ روپے فی کس تقسیم کا عمل بھی جاری ہے، اس کے لئے این ڈی ایم اے کو پانچ ارب روپے دیئے جا چکے ہیں جبکہ مزید تین ارب روپے دیئے جا رہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ سیلاب کی تباہ کاریوں سے پچھلے ایک ہفتے میں عالمی برادری کو آگاہی کے بعد اب عالمی برادری کی جانب سے بھی امدادی سامان موصول ہو رہا ہے۔

ان کا کہنا تھاکہ متحدہ عرب امارات سے 50 ملین ڈالر کا امدادی سامان پہنچنا شروع ہو گیا ہے، چین نے 400 ملین آر ایم بی اضافی امداد کا اعلان کیا ہے۔

اس کے علاوہ ترکیہ ، سعودی عرب ، اردن سمیت دیگر ممالک سے امدادی سامان آرہا ہے، امریکہ نے 31 ملین ڈالر جبکہ پرنس کریم آغا کے فرزند نے 10 ملین ڈالر کیش کا اعلان کیا ہے۔ دیگر ممالک بھی درجہ بدرجہ اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ سعودی عرب ایک پروگرام شروع کرنے جا رہا ہے، قطر کی قیادت نے ہر ممکنہ تعاون کا یقین دلایا ہے، عالمی امدادی ادارے بھی فعال ہیں، برطانیہ نے اپنی امداد 15 ملین پاﺅنڈ تک بڑھا دی ہے، اس پر پاکستانی قوم ان سب ممالک اور اداروں کے شکر گزار ہے۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اس کے بعد تعمیر نو کا مرحلہ آنا ہے جس کے لئے صوبوں اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر اچھی منصوبہ بندی کریں گے، سندھ میں نکاسی آب کے لئے اچھے کام کی ضرورت ہے۔

میاں محمد شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اندرون و بیرون ملک سے چیمبرز آف کامرس سمیت مختلف اداروں کی طرف سے ریلیف فنڈ میں امدادی چیک دیئے جا رہے ہیں، ڈونر کانفرنس بھی طلب کی جا رہی ہے، این جی اوز بھی فعال ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ عوام خود بھی متاثرین کے لئے کھانا اور امدادی سامان لے کر جا رہے ہیں، ہم جو ماحول چاہتے تھے وہ بن گیا ہے، پوری قوم ایک لڑی میں پروئی ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا کو سیلاب کے حقائق سے آگاہ کرنے پر عالمی میڈیا کے شکرگزار ہیں، وزارتوں، محکموں، متعلقہ اداروں اور افراد نے اس بڑے چیلنج کو قبول کیا ہے اور پوری طرح یکسو اور دن رات کام کر رہے ہیں، ایف ڈبلیو او نے سوات میں جہاں ”مین میڈ“ آفت آئی ہے، کاش دن رات لیکچر دینے والے دریاؤں کے پیٹ میں تعمیرات سے روکتے اور اس تباہی کا حل نکالتے۔

انہوں نے کہا کہ ہم اس وقت سیاست نہیں کرنا چاہتے کیونکہ یہ سیاست نہیں خدمت کا وقت ہے ، تاہم ہمیں اپنی غلطیوں سے سبق سیکھنا چاہیے، تعمیرات کے حوالے سے قوانین پر عملدرآمد ہونا چاہیے، سیلاب میں ہزار سے زیادہ اموات ہوئیں، کھربوں روپے کا معاشی نقصان ہوا، کیا قوم اب بھی خاموش تماشائی بنی رہے گی، کیا ہر سال اسی طرح غریب قوم کی کمائی بارشوں اور سیلاب کی نذر ہو گی، اس پر سمجھوتہ نہیں کریں گے، وفاق، صوبوں اور اداروں کے ساتھ مل کر جامع حکمت عملی و پالیسی بنائیں گے، یہ قوانین پر سختی سے کاربند رہنے کا وقت ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ قومی میڈیا نے جس طرح آگاہی دی ہے، اس پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں، سیلاب کے متاثرین کو محفوظ مقام تک پہنچانے والے مسلح افواج سمیت تمام اداروں کے شکر گزار اور ممنون ہیں، وفاقی حکومت، کابینہ کے ارکان، صوبائی حکومتوں، وزرائے اعلیٰ، چیف سیکرٹریز، پاک فوج، این ڈی ایم اے سمیت تمام اداروں نے دن رات ایک کر کے دکھی انسانیت کی خدمت کا بیڑہ اٹھایا ہوا ہے جس پر ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔

متعلقہ تحاریر