دہشتگردی کا مقدمہ: عمران خان جے آئی ٹی کے تیسرے نوٹس پر پیش ہوگئے

چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا ہے یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ مقدمہ مذاق ہے، قانون کے احترام میں جے آئی ٹی میں پیش ہوا ہوں۔

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ ان کے خلاف دہشت گردی کا مقدمہ درج ہونے پر ساری دنیا میں مذاق بنا ہوا ہے، آپ جتنا دیوار سے لگائیں گے ہم اتنا تیار ہورہے ہیں، اسلام آباد کی کال دی تو آپ برداشت نہیں کرسکیں گے۔

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان ، خاتون جج اور آئی جی پولیس اسلام آباد کو دھمکیاں دینے کے مقدمے میں آج ایس ایس پی آفس میں جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے۔

یہ بھی پڑھیے

اسلام آباد ہائیکورٹ کا انتباہ، 23 روز سے لاپتا شخص گھر پہنچ گیا

توہین عدالت کیس: سابق جج رانا شمیم نے غیرمشروط معافی مانگ لی

جے آئی ٹی میں شامل تفتیش ہونے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی ائی کے سربراہ کا کہنا تھا کہ آج وہ جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے سامنے پہلی بار پیش ہوئے ہیں۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ مقدمہ مذاق ہے، قانون کے احترام میں جے آئی ٹی میں پیش ہوا۔

ان کا کہنا تھاکہ ہمیں کہا جارہا ہے کہ سیلاب ہے سیاست نہ کریں ، مگر آج سیلاب پر سیاست کی جا رہی ہے، جو لوگ ہمیں سیلاب زدگان کے لیے فنڈنگ کررہے ہیں انہیں ہراساں کیا جا رہا ہے۔

عمران خان نے کہا کہ اب صرف صاف و شفاف الیکشن پر بات ہو سکتی ہے، ہم نے ہر چیز آئین و قانون کے دائرے میں کی ہے۔ عوام کا سمندر نکلنے والا ہے۔ ایک طرف ہمیں سیاست کرنے سے روکا جا رہا ہے اور دوسری جانب پارٹی کو کچلا جا رہا ہے۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو بھی سری لنکا کی طرح بنایا جارہا ہے، شہباز گل کو اغوا کیا گیا، اسے برہنہ کرکے جنسی تشدد کیا گیا ، اس پر بہیمانہ تشدد کیا گیا، سیلاب زدگان کیلئے پیسہ اکھٹا کررہے تھے ٹرانسمیشن بند کردی گئی۔ انہوں نے کہا کہ سب کو پتہ ہے کس طرح چوری کرکے پیسہ اکھٹا کیا گیا۔

جے آئی ٹی کے سامنے کا احوال

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان اپنے خلاف درج دہشت گردی کے مقدمے میں تفتیش کے لئے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے سامنے پیش ہوگئے۔ پولیس نے ان سے زبانی سوالات کے علاوہ 21 سوالات پر مشتمل تحریری سوالنامہ دے دیا۔

پولیس کی ٹیم نے انہیں شامل تفتیش کرتے ہوئے مختلف سوالات دریافت کئے ،تفتیش کا سلسلہ تقریباً 20منٹ تک جاری رہا۔اس دوران پولیس نے زبانی سوالات کے علاوہ 21 سوالات پر مشتمل تحریری سوالنامہ بھی چیئرمین تحریک انصاف کے حوالے کیا۔

اس سے قبل جے آئی ٹی نے عمران خان کو شامل تفتیش ہونے کے لئے دو نوٹس جاری کئے تھے۔سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف ایف نائن پارک اسلام آباد میں تقریر کے دوران خاتون جج اور آئی جی پولیس اسلام آباد کو دھمکیاں دینے کے الزام پر تھانہ مارگلہ اسلام آباد میں دہشت گردی کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پولیس کو دہشت گردی کے مقدمے میں چالان جمع کرانے سے روک دیا تھا اور چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو ہدایت کی تھی کہ وہ اس مقدمہ میں شامل تفتیش ہوں۔

متعلقہ تحاریر