ہراسانی کا شکار خواتین کی مدد گار نگہت داد خود آن لائن ہراسمنٹ کا نشانہ بن گئیں
پاکستان میں آن لائن ہراسانی کا نشانہ بننے والی خواتین کومفت قانونی امداد فراہم کرنے والی ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی سربراہ ایڈوکیٹ نگہت داد کو آن لائن ہراساں کیا جانے لگا، نگہت داد نے کہا کہ سائبر اسٹاکنگ، ڈاکسنگ، صنفی بدسلوکی اور دھمکیوں کا نشانہ بنایا جارہا ہے تاہم اب ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی کرونگی
پاکستان میں آن لائن ہراسانی کا شکار ہونے والی خواتین کومفت قانونی مدد فراہم کرنے والی ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی سربراہ نگہت داد ایڈوکیٹ خود آن لائن ہراسانی اور دھمکیوں کی زد میں آگئیں۔
ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی سربراہ نگہت داد ایڈوکیٹ کا کہنا ہے کہ دو سال سے زائد عرصے سے ایک شخص کی جانب سے مسلسل سائبراسٹاکنگ ، ڈاکسنگ، صنفی بدسلوکی نشانہ بنارہا ہے ۔
یہ بھی پڑھیے
خاتون رپورٹر فاطمہ اختر کو سیلاب زدہ علاقوں کی کوریج کے دوران ہراسانی کا سامنا
سوشل میڈیا پلٹ فارم ٹوئٹر پراپنے پیغام میں ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن کی سربراہ نگہت داد ایڈوکیٹ نے کہا کہ اپنے کام کی وجہ سے مجھ پر آن لائن حملے کوئی نئی بات نہیں تاہم ایک شخص مسلسل دو سال سے مجھے دھمکیاں دے رہا ہے ۔
I am no stranger to online attacks, however I have been bearing the brunt of a sustained targeted gendered disinformation campaign by an individual for over two years now because of my work. I have been subjected to cyber stalking, doxxing, gendered abuse and threats.
— Nighat Dad (@nighatdad) September 14, 2022
انہوں نے بتایا کہ دو سال سے زئد عرصے سے ایک شخص کی جانب سے ٹارگٹڈ صنفی ڈس انفارمیشن مہم کا خمیازہ بھگت رہی ہوں ۔ مجھے سائبر اسٹاکنگ، ڈاکسنگ، صنفی بدسلوکی اور دھمکیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔
سربراہ ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن نے کہا کہ کافی صبر و تحمل کا مظاہرہ کررہی ہوں تاہم اب اپنی حفاظت کیلئےخوفزدہ ہوں۔ میں نے بالآخر قانونی کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو کہ میرے قانونی حق ہے۔
نگہت داد نے کہا کہ میری شکایت کے نتیجے میں میرے خلاف ایک اور بدنیتی پر مبنی مہم چلائی گئی ہے۔ مجھے امید ہے کہ ملزمان کے خلاف مناسب اور بروقت کارروائی کی جائے گی۔
انہوں نے وزیراعظم کے معاون خصوصی سلمان صوفی، چیئرپرسن نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میری اور دیگر خواتین کارکنوں، انسانی حقوق کے محافظوں اور خواتین صحافیوں کی حفاظت ریاست پاکستان کی ذمہ داری ہے۔
واضح رہے کہ ایڈوکیٹ نگہت داد نے 2012 میں آن لائن ہراسانی کا شکار خواتین کو انصاف کی فراہمی کے لیے ڈیجیٹل رائٹس فاؤنڈیشن قائم کیا تھا جوکہ خواتین کو مفت قانونی مدد فراہم کرتا ہے ۔
یہ بھی پڑھیے
یوم آزادی پر اسلام آباد میں غیر ملکی خواتین سے ہراسانی کا واقعہ
امریکی جریدے ٹائم نے 2015 انہیں نیکسٹ جنریشن لیڈرز کی فہرست میں شامل کیا تھا جبکہ 2016 میں انہیں اٹلانٹک کونسل کی جانب سے فریڈم ایوارڈ سے بھی نواز گیا تھا ۔









