الیکشن اپنے وقت پر اور نئے آرمی چیف کی تعیناتی نومبر میں ہو گی، وزیر دفاع

خواجہ محمد آصف کا کہنا ہے عمران خان کی حسرت ہی رہے گی کہ وہ نئے آرمی چیف کی تعیناتی کریں۔

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ عام انتخابات آئندہ برس اگست میں ہوں گے جبکہ پاک فوج کے نئے سربراہ کی تعیناتی موجودہ حکومت نومبر میں کرے گی۔

وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کا اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہنا تھا کہ آئینی ادارے کو موضوع بحث اور متنازع بنانے سے گریز کیا جانا چاہیے۔ سیاستدان ایک دوسرے سے دست و گریبان ہوتے رہتے ہیں اور ایسا دنیا بھر میں ہوتا ہے مگر اداروں کو تنازع کا حصہ نہیں بنایا جانا چائیے۔

یہ بھی پڑھیے

آسماں کو چھوتی معیشت کو امپورٹڈ حکومت نے زمیں بوس کردیا، عمران خان

ٹرانس جینڈر مسئلہ نہیں ، ڈوبتی ہوئی معیشت اور سیلاب زدہ لوگوں کی بحالی ہے

انہوں نے کہا کہ رواں برس نومبر میں وزیر اعظم شہباز شریف پاک فوج کے سربراہ کی تقرری کریں گے اس لیے آئینی فریضے کو موضوع بحث بنانے سے گریز کیا جائے۔

وزیر دفاع کا کہنا تھاکہ جو بھی پاک فوج کا نیا سربراہ ہو گا وہ آئین اور ادارے کا وفادار ہو گا۔ عمران خان ہر معاملے کو متنازع بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ نہ کھیلیں گے اور نہ کھیلنے دیں گے۔

خواجہ آصف نے کہاکہ عمران خان کی حسرت ہے کہ وہ نیا آرمی چیف تعینات کریں۔ عمران خان ایک دن بات کر کے دوسرے دن مکر جاتے ہیں۔

ان کا کہنا سربراہ پاک فوج کی مدت ملازمت میں توسیع پر کہنا تھاکہ ابھی تک اس حوالے سے کوئی عمل شروع نہیں ہوا۔ ابھی تک تو وہی ہے جو کتابوں میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر وزیر اعظم کی  چین ، روس ، ایران اور ترکیہ کے صدر سے اہم ملاقاتیں ہوئیں جن میں تمام ممالک کی قیادت نے بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔

انہوں نے کہا کہ چین کے صدر شی جن پنگ نے وزیر اعظم کو دورہ چین کی دعوت دی ہے ، شہباز شریف نومبر کے پہلے ہفتے میں چین کا دورہ کریں گے جب کہ روس کے صدر نے بھی دورہ روس کی دعوت دی ہے جن کی تاریخوں کا تعین جلد کیا جائے گا۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ وزیراعظم ملکہ برطانیہ کی آخری رسومات میں شرکت کیلئے برطانیہ جائیں گے جہاں سے وہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کیلئے نیویارک روانہ ہوں گے۔

متعلقہ تحاریر