توشہ خانہ ریفرنس: عمران خان کے سیاسی مستقبل کا فیصلہ محفوط
عمران خان کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے دلائل مکمل کرلئے جس پر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اس کیس میں فیصلہ محفوظ کر لیا۔
الیکشن کمیشن نے چیرمین تحریک انصاف عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس میں ریفرنس پر فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے خلاف توشہ خانہ ریفرنس کی الیکشن کمیشن میں سماعت کے دوران ان کے وکیل علی ظفر کے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اسپیکر قومی اسمبلی نے عمران خان کو نااہل کرنے کا ریفرنس 5 اراکین کی درخواست پر فائل کیا جس میں کہا گیا کہ 63 ٹو کے تحت درخواست دائر کی گئی۔
ان کا کہنا تھاکہ ریفرنس میں موقف اختیار کیا گیا کہ عمران خان نے توشہ خانہ کے تحائف الیکشن کمیشن سے چھپائے ، اس لئے وہ آئین کی شق 62 ون ایف کے تحت صادق اور امین نہیں رہے، جب کہ یہ موقف خلاف قانون ہے۔
یہ بھی پڑھیے
ملکہ وکٹوریہ کا مجسمہ، گمشدگی اور بازیابی کی دلچسپ داستان
تحائف کے بدلے 3 کروڑ ادا کیے، توشہ خانہ ریفرنس میں عمران خان کا جواب
عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ فہرست میں شامل پہلے چار تحائف 2018-19 کے ہیں، جو اسی سال فروخت کر دیے گئے تھے جس کی رسید انکم ٹیکس ریٹرن میں موجود ہے۔
بیرسٹر علی ظفر کا دلائل میں کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن عدالت نہیں بلکہ کمیشن ہے، جب تک ہائی کورٹ کی نگرانی نہ ہو تو کوئی ادارہ عدالت نہیں بن جاتا، یہ سیاسی کیس ہے، اپوزیشن اس پر پریس کانفرنسز بھی کر رہی ہے۔
عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ تحائف کی 5 کروڑ 80 لاکھ آمدن پر جو ٹیکس دیا وہ ظاہر کیا گیا ہے، 2021 تک کی تفصیلات جواب میں دے دی ہیں۔ کسی تفصیل پر شبہ ہو تو الیکشن کمیشن اسکروٹنی کرتا ہے، اس کیس میں ایسا کوئی اعتراض نہیں لگایاگیا۔انہوں نے بتایا کہ 2019- 20 میں 17 لاکھ کے تحائف ملے۔
ممبر کمیشن نے اس پر دریافت کیا کہ عمران خان نے جو تحائف خریدے اور اس مد میں جو رقم توشہ خانہ کو ادا کی، وہ کہاں سے آئی۔؟
جس پر عمران خان کے وکیل نے کہا کہ یہ بات دریافت کرنا الیکشن کمیشن کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا۔ منی ٹریل ایف بی آر کا کام ہے کمیشن کا نہیں، عمران خان کے ٹیکس گوشواروں میں فروخت شدہ تحائف کی رقم ظاہر شدہ ہے، ہر رکن الیکشن کمیشن کو اپنے اثاثوں اور آمدن کے گوشوارے جمع کراتا ہے۔
مسلم لیگ نواز کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن میں کیس عمران خان کا ہے کسی اور رکن اسمبلی کا نہیں، ہر رکن اسمبلی اثاثوں کی تفصیلات الیکشن کمیشن میں جمع کرانے کا پابند ہے، 120 دن کے اندر گوشوارے جمع نہ کرانے پر کرپٹ پریکٹسز کے تحت کاروائی کی جاسکتی ہے، عمران خان فارم میں مس ڈیکلریشن کر کے کرپٹ پریکٹسز کے مرتکب ہوئے ہیں، غلط اثاثے ظاہر کرنے کا مرتب شخص پاکستان کا وزیر اعظم رہ چکا ہے، عمران خان نے 2021 میں ایف بی آر میں توشہ خانہ تحائف ظاہر کیے۔
عمران خان کے وکیل کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کو اختیار نہیں کہ ارکان کی ایمانداری کا تعین کر سکے، سپریم کورٹ قرار دے چکی کہ الیکشن کمیشن عدالت نہیں۔
چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ جہاں شک ہو وہاں الیکشن کمیشن اسکروٹنی بھی کرتا ہے، ایسا نہیں ہوتا کہ گوشوارے آئیں اور ہم الماری میں رکھ دیں، اس مرتبہ الیکشن کمیشن نے گوشواروں کا فارم مزید بہتر کیا ہے۔
عمران خان کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے دلائل مکمل کرلئے جس پر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اس کیس میں فیصلہ محفوظ کر لیا۔









