اسلام آباد میں کسانوں کا احتجاج کیا پی ٹی آئی کے احتجاج کا ٹریلر تھا؟
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے وفاقی دارالحکومت میں کسانوں کا احتجاج آنے والے دنوں میں پی ٹی آئی کے ممکنہ احتجاج کا ٹریلر تھا۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے اتحادی حکومت کے خلاف اپنی تازہ تحریک کا ٹریلر اس وقت دکھایا جب کسانوں کا ایک جم غفیر اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کرتا ہوا وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ایف نائن پارک میں پہنچ گیا۔
اسلام آباد میں ہونے والے کسانوں کے احتجاج کی قیادت کسان اتحاد نے کی۔ کسان یوٹیلیٹی بلوں ، ٹیکسز اور یوریا کھاد کی قیمتوں میں بےپناہ اضافے کے خلاف مظاہرہ کر رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیے
ملک میں سیلاب آتے ہی آصف علی زرداری منظر سے غائب
پی ٹی آئی کے متوقع لانگ مارچ سے قبل اسلام آباد کا ریڈ زون سیل
کسان احتجاج کرتے ہوئے اسلام آباد کے ایف نائن پارک میں پہنچ گئے جبکہ حکومت کی جانب سے احتجاج کے پیش نظر ریڈزون کو سیل کردیا گیا تھا ، تاہم کسانوں کے احتجاج نے حکومت کو بات چیت پر مجبور کردیا۔

پی ٹی آئی کے ممکنہ احتجاج سے قبل ہی وفاقی حکومت نے مارگلہ روڈ اور خیابان سہروردی کے علاوہ ریڈ زون کے تمام داخلی راستوں کو کنٹینرز اور خاردار تاریں لگا کر سیل کردیا تھا ۔ جبکہ وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ نے صوبوں سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی بھاری نفری طلب کر لی ہے۔
کسان جب اسلام آباد میں اپنے مطالبات کے حق میں احتجاج کررہے تھے عین اس وقت لاہور میں آل پاکستان لائرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف نے اعلان کیا کہ وہ اتحادی حکومت کے خلاف ہفتے سے اپنی تحریک کا آغاز کرنے جارہے ہیں۔
حکومت مکمل ہوش کھو بیٹھی ہے، ابھی تو تحریک انصاف نے اسلام آباد بند کرنے کی کوئ کال ہی نہیں دی ابھی سے پورا شہر قلعہ بنا رہے ہیں اتنے خوفزدہ اور نالائق لوگ شائد ہی اسلام آباد نے پہلے دیکھے ہوں ، الیکشن کراؤ اور لوگوں کو فیصلہ کرنے دو pic.twitter.com/tnrAz0Ff22
— Ch Fawad Hussain (@fawadchaudhry) September 21, 2022
کسانوں سے اظہار یکجہتی کے لیے پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما شاہ محمود قریشی اور پی ٹی آئی کارکنان کی ایک بڑی تعداد ایف نائن پارک پہنچ گئی ، تاہم پولیس نے انہیں کسانوں کے احتجاج میں شریک ہونے سے روک گیا۔
شاہ محمود قریشی ، پی ٹی آئی کے کارکنان اور پولیس آمنے سامنے آگئے ، پولیس حکام نے تحریک انصاف کے رہنما سے مطالبہ کیا کہ وہ یہاں سے چلے جائیں ورنہ انہیں گرفتار کرلیا جائے گا۔
I have just been surrounded by police and stopped from joining the Kissan Protest in F9 park. This is against my fundamental right to freedom of protest. How many voices is this imported government going to try to suppress? Shameful. #PakistanUnderFascism pic.twitter.com/VdLAW1Oy8b
— Shah Mahmood Qureshi (@SMQureshiPTI) September 21, 2022
ذرائع نے نیوز 360 کو بتایا ہے کہ مرکز میں اتحادی حکومت نے یہ شبہ ظاہر کیا ہے کہ پنجاب حکومت اور پی ٹی آئی والے کسانوں کے احتجاج کی پشت پناہی کر رہے تھے اور پنجاب کی صوبائی حکومت نے مرکز میں حکومت پر دباؤ ڈالنے کے لیے کسانوں کو وفاقی دارالحکومت پہنچنے میں سہولت فراہم کی تھی۔
VC @SMQureshiPTI talks to media after the fascist government stopped him from going to farmers protest. #PakistanUnderFascism pic.twitter.com/hNdOb0Ygss
— PTI (@PTIofficial) September 21, 2022
VC @SMQureshiPTI talks to media after the fascist government stopped him from going to farmers protest. #PakistanUnderFascism pic.twitter.com/hNdOb0Ygss
— PTI (@PTIofficial) September 21, 2022
مرکز میں اتحادی حکومت کے وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے احتجاجی کسانوں سے مذاکرات کیے اور انہیں اس بات پر قائل کیا کہ وزیراعظم کی واپسی پر ان کے اور شہباز شریف کے درمیان مذاکرات کا اہتمام کیا جائے گا۔ تاہم مہنگائی کی تازہ ترین لہر کے بعد اتحادی حکومت کے خلاف کسانوں میں شدید غم وغصہ پایا جاتا ہے۔
I’m extremely grateful to the leaders of Kissan Ittehad for honouring their commitment by calling off their today’s protest. Their delegation will be meeting with Prime Minister Shehbaz Sharif once he returns to Pakistan.
— Rana SanaUllah Khan (@RanaSanaullahPK) September 21, 2022
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے وفاقی دارالحکومت میں کسانوں کا احتجاج آنے والے دنوں میں پی ٹی آئی کے ممکنہ احتجاج کا ٹریلر تھا۔
ان کا کہنا ہے اگر کسان ایف نائن پارک تک پہنچ سکتے ہیں تو پی ٹی آئی کے کارکنان کی تعداد تو لاکھوں میں ہے ، انہیں حکومت کیسے روک پائے گی ، کیونکہ جذبے کے سامنے تمام ہتھیار ناکارہ ہو جاتے ہیں۔









