ٹرانس جینڈر بل کیخلاف سوشل میڈیا مہم بدنیتی پر مبنی اور بے بنیاد ہے،ریما عمر

اس قانون میں جنس تبدیل کرنے والوں  کیلیےشادی اور صحبت اختیار کرنے سے متعلق  کوئی شق شامل نہیں ہے۔یہ قانون ہم جنس پرستی یا ہم جنس تعلقات  کو تحفظ نہیں دیتا، خاتون وکیل و تجزیہ کار

ماہر قانون اور سماجی کارکن ریما عمر نے ٹرانس جینڈر  بل کیخلاف سوشل میڈیا  پر جاری مہم کوبدنیتی پر مبنی،موقع پرستانہ اور مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیدیا۔

ریماعمر نے طویل ٹوئٹر تھریڈ میں ٹرانس جینڈر بل پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

ٹرانس جینڈر مسئلہ نہیں ، ڈوبتی ہوئی معیشت اور سیلاب زدہ لوگوں کی بحالی ہے

جمعیت اتحادالعلما پنجاب کا ٹرانس جینڈر قانون کے خلاف احتجاجی تحریک کا اعلان

ریما عمر نے لکھا کہ  یہ قانون مہینوں کی تحقیق، غور و خوض اور مشاورت کے بعد 2018 میں نافذ کیا گیا تھا۔اسے تمام بڑی جماعتوں (  مسلم لیگ ن، پی پی پی، پی ٹی آئی)، قومی کمیشن برائے انسانی حقوق، اسلامی نظریاتی کونسل کے ارکان، سول سوسائٹی کے گروہوں  اور سب سے اہم خواجہ سرا اورٹرانس جینڈر کمیونٹی کی حمایت حاصل تھی۔

ریما عمر نے لکھا کہ یہ قانون خواجہ سراؤں کے بنیادی حقوق جیساکہ  تعلیم،صحت، عوامی مقامات پر جانے کی آزادی،سیاسی شراکت داری اور زندہ رہنے   کی تجدید کرتا ہے۔سب سے اہم یہ کہ یہ قانون برابری کا شہری ہونے کے ناطے ہراسانی اور امتیازی سلوک سے پاک  ان کے عزت سے جینے  کے حق کو تسلیم کرتا ہے ۔

انہوں نے مزید لکھا کہ یہ قانون خواجہ سراؤں کے اس حق کو بھی تسلیم کرتا ہے کہ وہ اپنی مرضی کی جنس کے انتخاب کے ساتھ اپنا شناختی کارڈ تبدیل کرواسکتے ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ قانون  میں وضع کردہ قواعد واضح کرتے ہیں کہ شناختی کارڈ ز کو میل یا فی میل سے ایکس میں تبدیل کروایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایکس شناخت کے حامل افراد شادی نہیں کرسکتے۔

انہوں نے کہاکہ شناختی کارڈ میں  جنس کی میل یا فی میل سے ایکس میں تبدیلی کیلیے کسی طبی معائنے کی ضرورت نہیں ہے، ایسے طبی معائنے انسانی وقار اور رازداری کے حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور خواجہ سراؤں کو جنسی  ہراسای کیلیے کمزور ہدف اور ان کے شناختی کارڈ   کی تبدیلی کے عمل میں بڑی رکاوٹ ہیں۔

ریما عمر نے واضح کیا کہ قانون میں ایسے افراد کیلیےشادی اور صحبت اختیار کرنے سے متعلق  کوئی شق شامل نہیں ہے۔یہ قانون ہم جنس پرستی یا ہم جنس تعلقات  کو تحفظ نہیں دیتا۔

انہوں نے کہاکہ صنفی شناخت اور جنسی رجحان مکمل طور پر الگ الگ مسائل ہیں – انہیں بے ایمانی اور موقع پرستانہ طور پر صرف خوف پھیلانے کے لیے خلط ملط کیا جا رہا ہے۔

ریما عمر نے مزید کہا کہ عدالتوں نے کئی فیصلوں میں حکام کو خواجہ سراؤں کے حقوق کا تحفظ یقینی بنانے کا حکم دیا ہے، عدالتوں نے متعدد فیصلے سنائے ہیں جن میں حکام کو خواجہ سراؤں کے حقوق کے تحفظ کی ہدایت کی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ  ”جنسی شناخت زندگی کا سب سے بنیادی پہلو ہےجس سے مراد مرد، عورت یا ٹرانس جینڈر ہونے کااندرونی احساس ہے۔“ریما عمر لکھا کہ یہ قانون  جابرانہ نوآبادیاتی قوانین/ذہنیت کو ختم کرنے کی ایک کوشش ہے جو ہمارے خطے میں ٹرانس شناخت کو مجرم قرار دیتے ہیں، انہیں ببمنحرفب،  جعل ساز  کے طور پر دیکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ لارڈ میو کا رد اور بلھے شاہ کا جشن ہے،مذہبی جماعتوں سمیت ہم سب کو اس قانون کو اپنانا چاہیے۔

متعلقہ تحاریر