صحافی اسد طور اخلاقیات کا دامن ہاتھ سے چھوڑ کر کامران خان پر برس پڑے

اسد طور نے سینئر صحافی کامران خان کے خلاف اخلاقیات سے گری گفتگو کا عملی نمونہ پیش کرتے ہوئے کامران خان اور انکے اہلخانہ کو لعنت ملامت کی اور ان کی کمائی کو بھی حرام قرار دیا، عوام نے اسد طور کے طرز عمل کو نا قابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ آپ کاایسا لہجہ تکبر کا احساس دلاتا ہے

صحافی اسد طورنے اخلاقیات کا دامن ہاتھ سے چھوڑتے ہوئے سینئر صحافی  کامران خان  اور ان کے والدین کے خلاف سخت نازیبا الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے لعنت ملامت کی۔

دنیا نیوز کے سینئر اینکر پرسن کامران خان سوشل میڈیا پلیٹ فارم  ٹوئٹر پراپنے آفیشل اکاؤنٹ سے عسکری قیادت سے اپیل کی کہ کل نیشنل سیکیورٹی کمیٹی اجلاس میں  حکومتی ارکان کے خلاف  جائزہ لیں۔

یہ بھی پڑھیے

جنرل باجوہ صاحب! ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے رہنا جرم ہے،کامران خان

کامران خان کا کہنا تھا کہ تینوں سروسز چیفس، چیئرمین جوائنٹ آف اسٹاف کمیٹی  اور انٹیلی جنس چیف نیشنل سیکیورٹی کمیٹی اجلاس میں حکومتی لیڈرشپ سے پاکستان کی قومی سلامتی کوکوئی خطرہ تو نہیں؟۔

انہوں نے کہا کہ جائزہ ضرور لیا جائے کہ حکومتی ارکان اپنے خلاف منی لانڈرنگ، رشوت ستانی سنگین کے مقدمات ختم کرواتی اور رہائش بمہ خاندان لندن اور دبئی میں برقراررکھتی ہی تو ملکی  قومی سلامتی کوکوئی خطرہ تو نہیں؟۔

کامران خان کی ٹوئٹ پر اپنا ردعمل دیتے ہوئے صحافی اسد طور نے اخلاقیات کا دامن ہاتھ سے چھوڑتے ہوئے کامران کے خلاف بد ترین زبان کا استعمال کیا ۔

انہوں نے کہا کہ  کامران خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آئین میں کہا لکھا ہے کہ فوجی سربراہان یا فوج ایسے معاملات کا جائزہ لے سکتی ہے یا ان میں مداخلت کر سکتی ہے ؟۔

اسد طور نے کہا کہ جذبات میں آکر اخلاقیات سے گری گفتگو کا عملی نمونہ پیش کرتے ہوئے کامران خان اور انکے اہلخانہ کو لعنت ملامت کی اور ان کی کمائی کو بھی حرام قرار دیا ۔

سوشل میڈیا صارف ایڈوکیٹ شان علی قمبرانی نے اسد طور کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اتنا جذباتی نہ بنو کامران خان غلط ہوسکتا ہے اور ہے لیکن اسکی خاندان نے تمہارا کیا بگاڑا ہے ؟۔

 

ایاز شاہ نے ایک صارف نے کہا کہ اسد بھائی، اختلاف کریں اور غلط کو غلط بھی کہیں مگر کسی کیلئے اتنے سخت  الفاظ سے گریز کریں۔ آپ کے جذبات  کی قدر مگر  ایسا لہجہ تکبر کا احساس دلاتا ہے ۔

 

سیدی الباشا نامی ایک ٹوئٹر صارف نے کہا کہ جس کی غلطی ہو وہ ضرور لعنت ملامت  کا حقدار ہے مگر اس کے والدین کا کیا قصور ؟ ۔ اتنے جذباتی نہ ہو جایا کرو کہ پورے خاندان پر ہی لعنت بھیج دو ۔

متعلقہ تحاریر