ماہر قانون ریما عمر کو عظمیٰ بخاری کونسی بات بری لگ گئی؟

عظمیٰ بخاری نے کامران شاہد کے پروگرام میں ارشاد بھٹی سے جھڑپ کے دوران کہا تھا میں ریما عمر نہیں ہوں جو چپ چاپ باتیں سنتی رہوں، ریما عمر کے شکوے پر عظمیٰ بخاری نے معافی مانگ کر انکی غلط فہمی دور کردی

ماہر قانون اور تجزیہ کار ریما عمر کو دنیا نیوز کے پروگرام فرنٹ لائن میں تجزیہ کار ارشاد بھٹی سے جھڑپ کے دوران مسلم لیگ ن کی سینئر رہنما عظمیٰ بخاری  کی جانب سے بار بار اپنی مثال دینا  پسند نہیں آیا۔

عظمیٰ بخاری نے ارشاد بھٹی نے زبانی تکرار کے دوران متعدد مرتبہ انہیں باور کرایا تھا کہ وہ ریما عمر نہیں ہیں جو چپ چاپ ان کی باتیں سنتی رہیں۔

یہ بھی پڑھیے

کال دینے والا ہوں قوم تیاری کرلے، عمران خان

ایون فیلڈ کیس میں مریم نواز اور کیپٹن (ر) محمد صفدر کو بری کردیا گیا

ریما عمر نے پروگرام  کی تصویر اپنے ٹوئٹ میں شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ  ایسا لگتا ہے کہ محترمہ بخاری مجھے ایک دائمی شکار سمجھتی ہیں، جو خود کو بیان کرنے سے قاصر ہیں۔چیخنا، چلانا یاذاتی حملے کرنا کچھ لوگوں کے لیے کارگر ہو سکتا ہے، میرا نقطہ نظر مختلف ہے،محترمہ بخاری کو اسے کمزوری سمجھنے کے بجائے اس بات کا احترام کرنا چاہیے۔

عظمیٰ بخاری نے جواب میں کہاکہ پیاری ریما، اگر گرما گرم بحث کے دوران آپ کو اپنا حوالہ سن کر تکلیف پہنچی تو اس کیلیے ممعذرت خواہ ہوں۔ میرا مقصد آپ کو نیچا دکھانا یا آپ کو کمزور بتانا نہیں تھا، آپ اسکرین پر انتہائی شائستہ اور منطقی انداز میں مضبوط آوازوں میں سے ایک ہیں۔ میں واقعی اس کی مداح ہوں۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ میرا صرف اتنا کہنا تھا کہ ارشد بھٹی جیسے بدمعاش ایک ایسے مسلک سے تعلق رکھتے ہیں جو سمجھتا ہے کہ  عورت کی آواز پر زور دینا ان کا پیدائشی حق ہے۔ میں نے انہیں صرف یاد دلایا کہ مجھے ڈرانے کی کوشش نہ کریں جس طرح وہ عام طور   اسکرین خواتین سے بدتمیزی کرتے ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ میں نے آپ کا حوالہ اسی طرح کے ایک شو میں آپ کے ساتھ کیے گئے  خوفناک سلوک کے تناظر دیا تھا۔ میں ایک مضبوط، خود مختار عورت ہوں جو دوسری خواتین کو عزت کے ساتھ کھڑا کرنے پر یقین رکھتی ہے، میرا سیاق و سباق اس سے بہت مختلف تھا جو آپ نے سمجھا۔ مجھے امید ہے کہ یہ وضاحت کافی ہوگی۔  ریما عمر نے اس وضاحت پر عظمیٰ بخاری کا شکریہ ادا کیا۔

متعلقہ تحاریر