کیا سپریم کورٹ اور ادارے پاناما جے آئی ٹی کی ناقص تحقیقات پر پوزیشن واضح کریں گے؟

مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے کوئی حقیقت پیش نہیں کی، اس نے صرف معلومات اکٹھی کیں، جسٹس کیانی: ناقص تفتیش کی تحقیقات کی جائے گی؟ملک و قوم کے ضائع ہونے والے وقت اور سرمائے کا حساب کون دیگا؟

اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے پاکستان مسلم لیگ ن  کی نائب صدر مریم نواز کی بریت نے سپریم کورٹ کے حکم پر  پاناما پیپرز کی مشترکہ تحقیقات کیلیےاعلیٰ قومی اداروں پر مشتمل مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی تحقیقات کے معیار پر سوالات اٹھا دیے ۔

کیاسپریم کورٹ اور تحقیقاتی ادارے بتائیں گے کہ یہ کیسی  ناقص تحقیقات تھی جس کے نتیجے میں ملزمان ہائیکورٹ سے بری ہوگئے؟

یہ بھی پڑھیے

کیا مریم نواز نااہلی کے خاتمے  پرانتخابی میدان میں عمران خان کا مقابلہ کرینگی؟

عمران خان کی نازیبا وڈیو مریم نواز نے رکوائی، حامد میر کے دعوے نے سوالات کھڑے کردیے

تجزیہ کاروں نے سوال کیا کہ کیا سپریم کورٹ اور پاناما جے آئی ٹی میں شامل دیگر ادارے ناقص تحقیقات کے حوالے سے تسلی بخش جواب دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ جوابات مستقبل میں اعلیٰ سطح پر بدعنوانی کے مقدمات کی تحقیقات اور انکوائریوں کے ناقص معیار کو دور کرنے میں مدد کریں گے۔

یاد رہے کہ  پاناما پیپرز کی تحقیقات کیلیے سپریم کورٹ کے جج کی نگرانی میں ایف آئی اے کے واجد ضیا کی سربراہی میں ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنائی گئی تھی جس میں اسٹیٹ بینک سے عامر عزیز،ایس ای سی پی سے بلال رسول،نیب سے عرفان نعیم منگی، آئی ایس آئی سے بریگیڈیئر(ر)نعمان سعیدا ور ملٹری انٹیلی جنس سے بریگیڈیئر کامران خورشید کو شامل کیا گیا تھا۔

جے آئی ٹی کی تحقیقات کے نتیجے میں سپریم کورٹ نے نواز شریف کو بیٹے سے قابل وصول تنخواہ اپنے اثاثوں میں ظاہر نہ کرنے پر نااہل قرار دیا تھا۔ بعدازاں اسی تحقیقات کے نتیجے میں نوازشریف ،مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کو احتساب عدالت نے ایون ریفرنس میں سزا سنائی تھی۔

گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ نے جولائی 2018 کےاحتساب عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو ایون فیلڈ ریفرنس میں بری کر دیا۔

جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے سماعت کی جس کے دوران عدالت نے فریقین کے دلائل سنے۔

جسٹس کیانی نے ریمارکس دیے کہ تفتیشی افسر کی رائے کو ثبوت نہیں سمجھا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے کوئی حقیقت پیش نہیں کی، اس نے صرف معلومات اکٹھی کیں۔

 اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی کے ریمارکس  سے سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر جے آئی ٹی نے کوئی حقیقت پیش نہیں کی  اور صرف معلومات اکٹھی کی ہیں تو اعلیٰ عدلیہ قوم کے  اتنے قیمتی سال اور سرمایہ کیوں برباد کیا۔ عدلیہ کےفیصلوں کے نتیجے میں ملک میں پیدا ہونے والی سیاسی و معاشی غیریقینی اور معیشت کو پہنچنے والے نقصان کا ازالہ کب اور کون کرے گا؟

متعلقہ تحاریر