سندھ حکومت کی نااہلی اور ناقص انتظامات کے باعث صوبہ موت کا  کنواں بن گیا

سندھ حکومت کی روایتی سستی اور ناقص انتظامات کے باعث صوبے میں سیلابی پانی کی نکاسی نہیں ہوسکی، مصنفہ نورالہدیٰ شاہ نے سندھ حکومت کو شرم دلاتے ہوئے کہا کہ خدارا سیلابی پانی کے اخراج کا انتظام کیا جائے ورنہ سندھ کے لوگ اس بارود نما پانی میں ڈوب کر مرجائے  گے

سندھ پر گزشتہ 14 سال سے حکمرانی کرنے والی پیپلزپارٹی صوبے کے شہریوں کو تاحال  بنیادی سہولتوں فراہم کرنے میں ناکام ہے جبکہ صوبے کے مختلف علاقوں میں اب تک  سیلابی پانی کے نکاس کا انتظام نہیں کرسکی ہے ۔

سندھ حکومت کی نااہلی یا ناقص منصوبہ بندی  کے باعث سندھ میں سیلابی پانی کی نکاسی نہیں ہوسکی جبکہ متاثرین اب بھی بنیادی سہولتوں کے لیے در بدر خوار ہوتے دکھائی دے رہے ہیں ۔

یہ بھی پڑھیے

سندھ حکومت کی ناہلی، امدادی سامان سیلاب متاثرین کے بجائے من پسند افراد میں تقسیم

مصنفہ نورالہدیٰ شاہ نے اپنی ایک ٹوئٹ میں سندھ حکومت کو شرم دلاتے ہوئے کہا کہ خدارا سیلابی پانی کے اخراج کا انتظام کیا جائے۔ سندھ کے لوگ اس بارود نما پانی میں اپنی  جانوں سے جارہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ  سندھ کے لوگ بارود نما پانی میں جھلس کر  مر رہے ہیں ۔ یہ ایٹم بم ہے  جبکہ صوبہ سندھ ناگا ساکی اور ہیرو شیما بنتا جا رہا ہے ۔

معروف صحافی حامد میر نے بھی سندھ حکومت کو ہوش میں لانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ سندھ کے سیلاب زدہ شہر دادو کے سول اسپتال میں  ڈاکٹر موجود نہیں ہیں۔

حامد میر نے ایک وڈیو شیئر کی جس میں ایک بے بس والد اپنے بچے کے علاج کیلئے دادو کے سول اسپتال میں ڈاکٹر ڈھونڈ رہا ہے لیکن اسے ڈاکٹر دستیاب نہیں ہو پارہا ہے ۔

حامد میر کی ٹوئٹ پر مصنفہ نورالہدیٰ شاہ نے کہا کہ سندھ موت کاکنواں ہے۔ اس وقت حکومت، مقامی انتظامیہ، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی سمیت  سب غائب ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ لوگ مررہے ہیں جبکہ اراکین اسمبلی اپنے لینڈ کروزرز سمیت منظر سے غائب ہیں ۔فقط عام لوگ امداداٹھائےدوڑتےپھررہےہیں کچھ ڈاکٹرز ذاتی طورپرکام کررہےہیں ۔

نورالہدیٰ شاہ سندھ کی وزارت صحت کی کوئی خبر نہیں جبکہ وزیر اعلیٰ تنہا اور خالی ہاتھ گھوم رہے ہیں ۔ اختیار اور انتظام نہ جانے کس کے ہاتھ میں ہے ۔

اینکر پرسن عمران ریاض کی جانب سے دادو میں ایک میڈیکل کیمپ لگایا گیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ سندھ میں بے شمار لوگ بیمار اور صوبائی  حکومت تقریباً غائب ہے۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے  سیلابی علاقوں سے سیلابی پانی کی نکاسی کے لیے اجلاس کی صدارت کی جس میں  صوبائی وزراء اور دیگر عہدیداران شریک ہوئے ۔

دوران اجلاس بتایا کہ پیپلزپارٹی کے مرکز بھٹو کے آبائی شہرلاڑکانہ میں 52 فیصدپانی کی نکاسی نہ ہوپائی ہے  جبکہ سکھر میں 50 فیصد، خیرپور  میں 54 فیصد، گھوٹکی سے 25 فیصد پانی کھڑا ہے ۔

شرکاء کو بتایا کہ گیا کہ کشمور میں 42 فیصد،  شکارپور میں 45 فیصد، جیکب آباد 59 فیصد اور قمبر، شہداد کوٹ میں 75 فیصد، پانی کی نکاسی نہ ہوسکی ہے ۔

حیدرآباد میں 70 فیصد، ٹنڈو الہیار سے 18 فیصد، ٹنڈو محمد خان سے 39، ٹھٹہ سے 23 فیصد، سجاول سے 47 فیصد اور بدین سے 59 فیصد پانی نہ نکالا گیا ہے۔

دادو میں 87، نوشہرو فیروز میں 52 ، شہید  بے نظیرآباد میں 47 فیصد، سانگھڑ میں 35 میرپورخاص  میں اور عمرکوٹ  میں 42 فیصد سیلابی پانی تاحال موجود ہے ۔

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے محکمہ آبپاشی کے چیف انجنیئرز کو سیلابی پانی کی نکاسی کی  ہدایت  کرتے ہوئے کہا کہ پانی کے اخراج کا عمل تیز نہ نہ ہوا تو  گندم کی کاشت خطرے میں پڑ جائے گی ۔

متعلقہ تحاریر