نواز شریف کی میڈیا ٹاک میں شکایات کے انبار، نشانہ عمران خان نہیں کہیں اور تھا

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے بنیادی طور پر میاں نواز شریف کی گفتگو سے ایک بات تو بہت واضح تھی کہ یہ ساری شکایات عمران خان سے نہیں تھی، بلکہ ان کی گفتگو کا محور یا تو سپریم کورٹ تھا یا پھر مقتدر قوتیں تھی۔

گذشتہ روز لندن میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد میاں محمد نواز شریف نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے سارے دھکڑے سنا دیئے ، پاناما لیکس سے لے کر 5 سال ضائع ہونے تک ، مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس سارے قصے میں سابق وزیراعظم عمران خان کا یا ان کی حکومت کا کیا کردار ہے۔؟

لندن صحافیوں کے وفد سے تفصلی گفتگو کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) سربراہ میاں محمد نواز شریف نے کہا کہ میری زندگی کے 5 قیمتی ترین سال ضائع کردیئے گئے ، مجھے اذیت دینے کے لیے میری بیٹی کو میری آنکھوں کے سامنے گرفتار کیا گیا ، میری اہلیہ کی فوتگی کی خبر تین گھنٹے بعد دی گئی ، ظلم یہ تھا کہ مجھے میری اہلیہ سے بات کرنے کی اجازت نہیں تے۔ آپ اندازہ کرسکتے ہیں میرے دل پر کیا گزری ہوگی۔؟

یہ بھی پڑھیے

مجھے اذیت دینے کے لیے میری بیٹی کو میرے سامنے گرفتار کیا گیا، نواز شریف

پاکستانی سیاست میں بدزبانی اور بازاری زبان کااستعمال عام ہوگیا

نواز شریف کا کہنا تھا کہ کون نہیں جانتا جو کیس ہم پر بنائے گئے وہ جعلی کیس تھے۔ کوشش کی گئی ہم الیکشن سے پہلے باہر نہ آسکیں ، جج شوکت صدیقی کی باتوں سے سب چیزیں واضح ہوچکی ہیں ، جسٹس ثاقب نثار کی آڈیو لیک سے ثابت ہوچکا یہ لوگ ہمیں ہر صورت میں سزا دینا چاہتے تھے۔

سربراہ ن لیگ کا کہنا تھا مجھ سے انتقام لیتے لیتے پاکستان کی معیشت کا بھٹہ بٹھا دیا گیا ، ہم ملک میں بجلی لے کر آئے ، ہمارے دور میں موٹروے پر موٹروے بن رہی تھیں ، پاکستان ایٹمی قوت بن چکا تھا اور معاشی طاقت بننے جارہا تھا۔ ان سب چیزوں کا حساب کون دے گا۔

میاں نواز شریف کی میڈیا ٹاک پر ردعمل دیتے ہوئے پی ٹی آئی کے سینئر رہنما فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ” نواز شریف کی پریس کانفرنس پر ISPR یا رجسٹرار سپریم کورٹ سے رابطہ کریں، ان پر جو الزامات نواز شریف نے لگائے، اس کا بہتر جواب یہ خود دے سکتے ہیں۔ کیونکہ نہ پانامہ پیپرز ہم لائے، نہ اس وقت ہم حکومت میں تھے اور نواز شریف، مریم کو ٹرائل مکمل ہونے تک گرفتار بھی نہیں کیا گیا۔”

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے یہ ساری شکایات سابق وزیراعظم عمران خان یا حکومت سے تو بنتی ہی نہیں ، نواز شریف صاحب کو 62 ون ایف کے تحت نااہل قرار دیا گیا ، وہ قانون عمران خان حکومت کا بنایا ہوا نہیں تھا۔

تجزیہ کاروں کا مزید کہنا ہے کہ سوچنے کی بات یہ ہے کہ وہ کس سے شکایت کررہے تھے ، اور اب آگے کے حوالے سے ان کا کیا ارادہ ہے۔؟ کیا وہ پاکستان میں آئیں گے ، اپنے خلاف بنے ہوئے مقدمات کا سامنا کریں گے۔؟ کیا وہ جیل جانا پسند کریں گے۔؟ پاکستان واپسی کے حوالے سے سوال کا جواب بھی گول کرگئے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے بنیادی طور پر میاں نواز شریف کی گفتگو سے ایک بات تو بہت واضح تھی کہ یہ ساری شکایات عمران خان سے نہیں تھی، بلکہ ان کی گفتگو کا محور یا تو سپریم کورٹ تھا یا پھر مقتدر قوتیں تھی۔ اب یا سپریم کورٹ ان کی میڈیا ٹاک پر بیان جاری کرے یا پھر اسٹیبلشمنٹ اسٹیٹمنٹ دے ، کیونکہ بال اب دونوں کی کورٹ میں ہے۔

متعلقہ تحاریر