اسحاق ڈارامریکا روانہ: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کون طے کرے گا ؟

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈارآئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی میٹنگز میں شرکت کیلئےواشنگٹن روانہ ہوگئے جہاں وہ قرض اور فنڈ  کے حصول  کی کوشش کرینگے جبکہ 4 روز بعد ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی ردوبدل ہونا ہے تاہم وزیر خزانہ ملک میں موجود نہیں ہونگے تو اس کا فیصلہ کون کرے گا ؟

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار عالمی مالیاتی ادارے ائی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے واشنگٹن روانہ ہوگئے ہیں جبکہ 4 روز بعد ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں  میں ردو بدل  بھی ہونا ہے ۔

وفاقی وزیر خزانہ سرکاری دورے پر امریکا روانہ ہوگئے ہیں جہاں وہ آئی ایم ایف اور عالمی بینک کی سالانہ  میٹنگز میں شریک ہونگے جبکہ سائیڈ لائن دونوں اداروں سے مذاکرات بھی کیے جائیں گے ۔

یہ بھی پڑھیے

امریکی ڈالر کی قدر میں کمی سے بیرونی قرضوں میں 2 ہزار750 ارب کی نمایاں کمی

وزارت خزانہ  کا کہنا ہے کہ اسحا ق ڈار اپنے دورہ امریکا میں عالمی مالیاتی اداروں سے قرض پروگرام پر بات چیت کریںگے جبکہ عالمی بینک حکام سے بھی فنڈز کے امور زیر غور آئیں گے ۔

ذرائع نے بتایا کہ انٹرنیشنل مانیٹرنگ فنڈ کے حکام سے قرض کی شرطوں میں نرمی بھی طلب کی جائے گی جس کے تحت پیٹرولیم لیوی اور بجلی کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ منجمد کرنا  شامل ہیں۔

وزیر خزانہ نے پیرس کلب کے قرضوں کی ادائیگی میں توسیع کو غیر فائدہ مند قرار دیتے  ہوئے کہاکہ اس کا مجموعی قرضہ  ٹوٹل قرض کا صرف 11 فیصد ہے ۔

اسحٰق ڈار نے کہا کہ جب ہم بیرونی ادائیگیوں کے لیے 32 سے 34 ارب ڈالر کا بندوبست کرنے جارہے ہیں تو مزید ایک ارب 20 کروڑ ڈالر کا بندوبست کرنا کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہے۔

ملک میں 4 روز بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں رد و بدل بھی کیا جانا ہے جبکہ وزیر خزانہ  اسحاق ڈار اس موقع پر ملک میں موجود ہی نہیں ہونگے تو اس کی منظوری کون دیگا ۔

سابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے  گزشتہ ماہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی  کے  فیصلے کو اپنی ہی حکومت کی لاپروائی  کہتے ہوئے کہا تھا کہ اس کے نتائج خطرناک ثابت ہونگے ۔

یہ بھی پڑھیے

عالمی ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے نیشنل بینک سمیت پانچ بینکس کی ریٹنگ کم کردی

مفتاح اسماعیل کے بیان پران ہی کی پارٹی کے رہنما اورموجودہ وزیر خزانہ اسحاق ڈارنے انہیں کہا تھا کہ عوام پر بوجھ ڈالنےسے آپ مطمئن ہوسکتے ہیں مگر میں اس سے مطمئن نہیں ہوں۔

انہوں نے سابق وزیرخزانہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ مفتاح اسماعیل کو آئی ایم ایف سے ڈیل کرنا نہیں آئی تاہم مجھے پتہ ہے عالمی مالیاتی ادارے کو کیسے رام کرنا ہے ۔

متعلقہ تحاریر