اٹارنی جنرل اُشتر اوصاف علی نے اچانک اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا
وزیراعظم شہباز شریف نے اشتر اوصاف کو نئے اٹارنی جنرل کی تعیناتی تک کام کرنے کی ہدایت کی ہے۔
سپریم جوڈیشل کمیشن کے اجلاس سے چند گھنٹے قبل اٹارنی جنرل اُشتر اوصاف علی نے اپنے عہدے سے اچانک استعفیٰ دے دیا ، تاہم وزیراعظم نے انہیں نئے اٹارنی جنرل کی تعیناتی تک کام کرنے کی ہدایت کردی ہے۔
اٹارنی جنرل اُشتر اوصاف علی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے اور اپنا استعفیٰ وزیراعظم شہباز شریف کو ارسال کردیا ہے۔
نیوز 360 کو ذرائع کے بتایا ہے کہ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور اٹارنی جنرل اشتر اوصاف علی نے گذشتہ رات چیف جسٹس آف پاکستان عمر عطا بندیال سے ملاقات کی تھی۔ تاہم ذرائع نے ملاقات کی تفصیلات دینے گریز کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
70 لاکھ اور ایک کروڑروپے تنخواہ لینے والےافسران کچھ نہیں کررہے، رانا تنویر
شہباز گل کیس: اسلام آباد کی مقامی عدالت نے پولیس کو بڑا حکم دے دیا
ان کے مستعفی ہونے کی خبر جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کے ایک اہم اجلاس کے آغاز سے چند لمحے قبل سامنے آئی جس میں لاہور ہائی کورٹ کے 13 ججوں کی مستقل تقرری پر غور کیا جانا تھا۔
باخبر ذرائع نے بتایا کہ اٹارنی جنرل اشتر اوصاف علی نے ماضی میں کم از کم دو بار استعفیٰ دینے کی کوشش کی لیکن وزیر اعظم نے انہیں اس وقت تک کام جاری رکھنے کو کہا جب تک ان کے متبادل کا بندوبست نہیں ہوجاتا۔
ذرائع نے بتایا ایسا لگتا ہے کہ وفاقی حکومت لاہور سے کسی معروف وکیل کو اس عہدے پر تعینات کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے۔
خیال رہے کہ اشتر اوصاف کو رواں سال مئی میں اٹارنی جنرل آف پاکستان تعینات کیا گیا تھا جب یہ عہدہ 9 اپریل کو خالد جاوید خان کے مستعفی ہونے کے بعد خالی ہوا تھا۔
یہاں یہ بھی یاد رہے کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے دور میں اشتر اوصاف علی نے 2015-16 کے دوران وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے قانون و انصاف کے طور پر خدمات انجام دیں تھی۔









