منی لانڈرنگ کیس: لاہور ہائیکورٹ نے 2020 میں حمزہ شہباز کو ضمانت نہیں دی
قومی احتساب بیورو کے ہاتھوں جون 2019 میں گرفتار ہونے والے حمزہ شہباز کو لاہور ہائیکورٹ نے منی لانڈرنگ کیس میں ضمانت دینے سے انکار کر دیا تھا تاہم لاہور کی خصوصی عدالت نے 2022 میں انہیں مقدمے میں بری کردیا ،فروری 2021 میں انہیں لاہور ہائی کورٹ سے مذکورہ کیس میں ضمانت ملی تھی

لاہورخصوصی عدالت نے منی لانڈرنگ کیس میں وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز کو 2020 میں لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے ضمانت مسترد ہونے کے باوجود بری کردیا۔
فروری 2020 میں لاہورہائیکورٹ کی جانب سے حمزہ کی ضمانت مسترد ہونے کے باوجود خصوصی عدالت نے منی لانڈرنگ کیس میں وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے صاحبزادے حمزہ شہباز کو بری کردیا۔
یہ بھی پڑھیے
منی لانڈرنگ کیس: شہباز اور حمزہ 16ارب روپے قومی خزانے میں جمع کروائیں گے ؟
پنجاب اسمبلی میں اس وقت کے قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز کی غیر قانونی اثاثوں اور منی لانڈرنگ سے متعلق کیس میں ضمانت کی درخواست فروری 2020 میں لاہور ہائیکورٹ نے مسترد کردی تھی۔
مسلم لیگ (ن) کے رہنما کو قومی احتساب بیورو (نیب) نے جون 2019میں گرفتار کیا تھا۔ فروری 2020 میں لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے حمزہ کی ضمانت مسترد کردی تھی ۔
ڈان نیوز کے مطابق جسٹس سید مظہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں لاہور ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے مسلم لیگ ن کے رہنما کی درخواست ضمانت کی سماعت کی جس کے دوران انہوں نے پوچھا کہ حمزہ کے خلاف کیا الزامات ہیں۔
حمزہ کے وکیل سلمان اسلم بٹ نے کہا کہ نیب نے دعویٰ کیا ہے کہ حمزہ کے اثاثے غیر قانونی طور پر بڑھے لیکن ان کے وکیل نے دلیل دی کہ اینٹی منی لانڈرنگ (اے ایم ایل) ایکٹ 2010 کے تحت نیب حمزہ کے خلاف کارروائی نہیں کرسکتا۔

عدالت کے سامنے آپ کا ایک نکتہ یہ ہے کہ نیب اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ کی بنیاد پر کارروائی نہیں کر سکتا؟ جسٹس نقوی سے استفسار کیا جس پر بٹ نے اثبات میں جواب دیا۔
عدالت نے استفسار کیا کہ حمزہ کے اثاثوں میں کتنا اضافہ ہوا؟ نیب کے وکیل نے کہا کہ حمزہ کے اثاثوں میں 2018 تک 410 ارب روپے کا اضافہ ہوا جبکہ حمزہ کے وکیل نے کہا تھا کہ نیب 15 سال کا اضافے کوبتا ر ہا ہے ۔

لاہور ہائیکورٹ نے حمزہ کے وکیل سے اپنے مؤکل کے اثاثوں میں اضافے کا ذریعہ پوچھا تھا جس پر انہوں نے اپنے موکل کے تمام اثاثے اور ٹیکس گوشوارے پیش کیے اور کہا کہ حمزہ کو بیرون ملک سے بھی رقوم موصول ہوئیں ہیں۔
عدالت کے استفسار کے بعد کہ یہ رقم بیرون ملک سے کس نے بھیجی، بٹ نے کہا، ’’سب کچھ اس کے [حمزہ کے] ٹیکس گوشواروں میں درج ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ حمزہ نے کبھی رشوت یا کک بیک نہیں لیا۔

اپنے دلائل پیش کرتے ہوئے نیب کے وکیل نے شہباز شریف کے خاندان کے اثاثوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے الزام لگایا کہ رقم حمزہ اور ان کے خاندان کے اکاؤنٹس میں جاتی رہی۔
حمزہ کے خلاف عدالتی حکم نامہ بھی جاری کیا گیا جس میں لکھا گیا، “21۔ درخواست گزار کو اس معاملے میں 28.09.2020 کو گرفتار کیا گیا تھا اور تفتیش کے دوران وہ اس کیس میں پوری طرح ملوث پایا گیا ہے۔
استغاثہ کے گواہوں بشمول منظور کنندگان نے اپنے بیانات ریکارڈ کئے۔ اس کیس میں درخواست گزار کو مکمل طور پر ملوث کیا ہے اور ان کے بیانات کو دستاویزی ثبوت کے ساتھ ضمیمہ کیا گیا ہے ۔
درخواست گزار کی جانب سے اپنے خاندان کے افراد کے نام پر جعلی اور جعلی ٹی ٹی کے ذریعے اپنے بینک اکاؤنٹس اور دیگر بے نامی داروں کے نام پر حاصل کیے گئے ۔
درخواست گزار کو مبینہ جرم سے جوڑنے کے لیے ریکارڈ پر کافی مجرمانہ مواد دستیاب ہے اور اس طرح وہ اس ریلیف کا حقدار نہیں ہے جس کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

فروری 2021 میں لاہور ہائی کورٹ نے منی لانڈرنگ کیس میں حمزہ شہباز کی ضمانت منظور کرتے ہوئے جیل حکام کو ضمانتی مچلکے جمع کرانے کے بعد رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔









