ضمنی انتخابات میں زبردست کامیابی ، سینئر صحافیوں نے عمران خان کو آئندہ کا وزیراعظم قرار دے دیا
حالیہ ضمنی انتخابات میں تاریخی فتح کے بعد، پی ٹی آئی پر تنقید کرنے والے متعدد صحافیوں نے کہا ہے کہ عمران خان کے اگلے وزیراعظم بننے کے امکانات بہت روشن ہو گئے ہیں۔

حالیہ ضمنی انتخابات میں قومی اسمبلی کی نشستوں پر چیئرمین تحریک انصاف کی تاریخ ساز کامیابی کے بعد ، پی ٹی آئی پر تنقید کرنے والے متعدد صحافیوں نے اپنے خیالات میں بدلاؤ لاتے ہوئے کہا ہے کہ عمران خان کے لیے ایک مرتبہ پھر سے وزیراعظم بننے کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔
عوام میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی کی مقبولیت اور حالیہ ضمنی انتخابات میں ان کی پارٹی کی تاریخ ساز کامیابی نے پاکستان کے کئی سینئر صحافیوں کو اپنے خیالات میں تبدیلی پر مجبور کردیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
ضمنی انتخابات میں عمران خان کی تاریخی فتح: پی ڈی ایم اپنے ہی جال میں پھنس گئی
مکمل اختیارات نہ ملے تو دوسرے دن وزارت عظمیٰ کا عہدہ چھوڑ دوں گا، عمران خان
سینئر صحافی اور اینکر پرسن محمد مالک نے سماجی رابطوں کی ویب ٹویٹر پر پیغام شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "عمران خان نے 7 نشستوں سے الیکشن لڑ کے اپنے مدمقابل حریفوں کے کھیل کو ایک دائر میں محدود کردیا ، یہ انتہائی جرات مندانہ حکمت عملی کا نتیجہ نکلا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا 6 (غیر سرکاری نتائج) نشستوں پر ان کی کامیابی ، مقتدر قوتوں کو ان سے بات چیت کرنے پر مجبور کرسکتی ہے۔؟
IK’s extremely bold tactic of contesting on 7 seats and transforming competing candidates into small game by contrast has paid off indeed. Question is, will his success on 6 (unofficial results ) give him greater leverage in talks with powers that be?
— Mohammad Malick (@MalickViews) October 16, 2022
مطیع اللہ جان نے ٹویٹ کیا، "اہل دانش کو چاہیے کہ وہ عوام کی مرضی کا احترام کریں، اس بات سے قطع نظر کہ آپ اس سے اتفاق کرتے ہیں یا نہیں۔ اس معاشرے کی بہتری کے لیے کام کرتے رہنا چاہیے ، کیے بغیر۔ اسے معاشرے کے لیے آنے والے خطرات کی انتباہی روشنی کے طور پر کام کرتے رہنا چاہیے ، یہ الگ بات ہے کہ آپ اکثریتی ووٹ کے فیصلے سے متفق ہوتے ہیں یا نہیں۔”
The intelligentsia ought to respect the will of the people without having to agree with it. It must keep on acting as a warning light of dangers ahead for the society and its judgement must not be impaired by the fact of a majority vote.
— Matiullah Jan (@Matiullahjan919) October 16, 2022
ماریانہ بابر نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے لکھا کہ "عمران خان نے پاکستانیوں کو دکھا رہے ہیں کہ آپ اسٹیبلشمنٹ کی حمایت کے بغیر جیت سکتے ہیں۔ کیا یہ موڈ عام انتخابات تک جاری رہے گا اور کیا نیا چیف بھی غیر جانبدارانہ کردار ادا کرے گا؟انہوں نے کہا ہے اس کا جواب نصرت جاوید دے سکتے ہیں؟
@ImranKhanPTI showing Pakistanis that you cam win without support from establishment.
Will this mode carry on till general elections and will the new Chief also play neutral? @javeednusrat could respond?— Mariana Baabar (@MarianaBaabar) October 16, 2022
ماریانہ بابر کو جواب دیتے ہوئے سینئر صحافی نصرت جاوید نے لکھا ہے کہ "محترمہ ماریانہ بابر صاحبہ آپ ہمیشہ مجھ عجیب و غریب اور پیچیدہ سوالات کیوں کرتی ہیں؟ سب سے محفوظ جواب یہ ہے کہ 1970 کے بعد سے جب وہ عام انتخابات کی بات کرتے ہیں تو آپ بالکل لاتعلق نہیں ہو سکتے۔ بلکہ سسٹم کا ڈیفالٹ موڈ۔”
Dear @MarianaBaabar why you always put complicated questions to poor me? Safest answer is that since 1970 THEY can’t act absolutely indifferent when it comes to GENERAL ELECTIONS. Default mode of the SYSTEM rather. https://t.co/FI6Uc92PFw
— Nusrat Javeed (@javeednusrat) October 16, 2022
سیرل المیڈا نے اپنے ٹویٹر ہینڈل پر لکھا ہے کہ "عمران خان نے 7 نشستوں پر کامیابی حاصل کرکے زبردست چیلنج دے دیا ہے ، پی ٹی آئی نواز لیگ کے 97 کے بھاری مینڈیٹ کو پیچھے چھوڑ سکتی ہے۔”
IK’s 7 has eclipsed ZAB, PTI can sweep past Nawaz’s heavy mandate of ’97…
— cyril almeida (@cyalm) October 16, 2022
ایک اور معروف صحافی محمد تقی نے اپنی رائے دیتے ہوئے کہا ہے کہ "عمران خان اپنے پیغام پر انتھک، توانا اور ایماندار ہیں، چاہے وہ کتنا ہی خوفناک کیوں نہ ہوں۔ وہ اس وقت اپنی مقبولیت کی انتہا پر ہیں۔ فوج اور پی ڈی ایم والے دونوں مخالفین ہیں اور وہ اس بات سے ناواقف ہیں کہ عمران خان کا مقابلہ کیسے کریں۔”
Imran Khan is relentless, energetic & hones in on his message, no matter how awful it is. He has perfected the craft of populism to a tee. His opponents, in both army & PDM, are clueless about how to counter the IK juggernaut #Pakistan #ByElection2022
— Mohammad Taqi (@mazdaki) October 16, 2022
16 اکتوبر کو ضمنی انتخابات میں تاریخی فتح
عمران خان کی زیرقیادت پی ٹی آئی نے اتوار کے ضمنی انتخابات میں اپنی آٹھ میں سے چھ اور پنجاب اسمبلی کی دو مزید نشستوں پر دوبارہ فتح سمیت لی ہے ، غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق، پی ٹی آئی کے سربراہ نے ملک کی سیاسی تاریخ 8 حلقوں سے انتخابات لڑ کے ایک بےمثال نظیر قائم کردی ہے۔ قومی اسمبلی کی 8 نشستوں میں سے 7 پر سربراہ تحریک انصاف نے انتخابات میں حصہ لیا جبکہ 8ویں نشست یعنی این اے 157 سے تحریک انصاف کے سینئر رہنما شاہ محمود قریشی کی صاحبزادی مہر بانو میدان میں اتریں تھیں۔
پی ٹی آئی قومی اسمبلی کی دو نشستوں ، این اے 157 ملتان اور این اے 237 ملیر کراچی سے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے ہاتھوں ہار گئی۔
تاہم تحریک انصاف نے این اے 22 مردان ، این اے 31 پشاور ، این اے 24 چارسدہ ، این اے 108 فیصل آباد آٹھ ، این اے 118 ننکانہ صاحب ، این اے 239 کورنگی ، اور پی پی 209 خانیوال اور پی پی 241 بہاولنگر سے نشستیں حاصل کرلی ہیں۔
حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز (پی ایم ایل ن) نے پی پی 139 شیخوپورہ سے کامیابی حاصل کی ہے۔









