جبران ناصر نے وکلا کی ہڑتالوں کو بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیدیا

انسانی حقوق کے سرگرم کارکن اور وکیل جبران ناصر وکلا تنظیموں کی آئے روز کی ہڑتالوں کیخلاف بول پڑے۔
جبران ناصر نے وکلا کی ہڑتالوں کو بنیادی حقوق کی خلاف ورزی اور عدالتوں کو تقدس کے خلاف قرار دےدیا۔
یہ بھی پڑھیے
جسٹس اطہر من اللہ سمیت تین ججز کے نام سپریم کورٹ میں تعیناتی کے لیے فائنل
عاصمہ جہانگیر کانفرنس میں شرکت ، اعظم نذیر تارڑ کو مہنگی پڑ گئی
جبران ناصر نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا کہ ہڑتال پر جانا ہر شہری اور انجمن کا حق ہے لیکن اس میں شرکت رضاکارانہ ہونی چاہیے جبری نہیں۔
انہوں نے مزید لکھا کہ قانون کی عدالتیں انصاف تک رسائی اور پاکستان کے شہریوں کی خدمت کے لیے موجود ہیں۔ عدالتوں تک رسائی کو روکنا بنیادی حقوق کی خلاف ورزی اور عدالتوں کے تقدس کے خلاف ہے۔
To go on strike is right of every citizen/association but participation should be voluntary not forced. Courts of Laws are there to guarantee access to Justice & serve citizens of Pakistan. Blocking access to Courts is violation of fundamental rights & against sanctity of Courts.
— M. Jibran Nasir 🇵🇸 (@MJibranNasir) October 24, 2022
یاد رہے کہ سپریم کورٹ میں تقرری کیلیے سندھ اور لاہور ہائیکورٹس کے سینئر ججز کو نظر انداز کیے جانے کیخلاف گزشتہ روز سندھ بھر میں وکلا نے عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا تھا۔
پاکستان کے عدالتی نظام میں مختلف وجوہات کی بنیاد پرآئے روز عدالتی بائیکاٹ معمول بن چکا ہے۔روز روز کی ہڑتال کے باعث نہ صرف کیسز التوا کا شکار ہوجاتے ہیں بلکہ عدالت آنے والے سائلین کو بھی شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔









