پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے قبل وزیراعظم کے فوکل پرسن احمد جواد مستعفی

وزیراعظم صاحب میں اندازہ کر سکتا ہوں کہ آپ اعلیٰ ترین عہدہ ضرور رکھتے ہیں لیکن حکومت کے تمام فیصلے تین مختلف جگہوں سے آتے ہیں، آپ کی صلاحیتوں کا معترف ہوں لیکن آپ کی مجبوریوں کے پیش نظر میں اپنا استعفی پیش کر رہا ہوں، احمد جواد

سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور اٹارنی جنرل اشتر علی اوصاف اور سابق وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ کے بعد فوکل پرسن احمد جواد بھی وزیراعظم شہباز شریف کی کابینہ کو خیرباد کہہ گئے۔

وزیراعظم کے فوکل پرسن احمد جواد نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے لانگ مارچ کے چند گھنٹے بعد ہی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے ، لانگ مارچ کا آغاز آج دن 11 بجے لاہور کے لبرٹی چوک سے شروع ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے

سائفر کی کہانی اگر من گھڑت تھی تو ڈیمارش کیوں دیا گیا، شاہ محمود قریشی

ارشد شریف کی زندگی کو پاکستان میں کوئی خطرہ نہیں تھا، ڈی جی آئی ایس آئی

ٹوئٹر پر احمد جواد نے اپنا استعفیٰ پوسٹ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہوں نے پاکستان کی سیاست میں نئے اصول متعارف کرائے ہیں۔

احمد جواد نے لکھا ہے کہ "جب PTI تانگہ پارٹی تھی تو PTI میں شامل ہوا اور اُس وقت چھوڑا جب وہ حکومت میں تھی اورطاقت ور تھی۔”

انہوں نے مزید لکھا ہے کہ "مسلم لیگ ن میں شامل ہوا جب وہ اپوزیشن میں اور کمزور تھی اورچھوڑا جب وہ حکومت میں اور طاقت ور تھی۔”

سابق فوکل پرسن احمد جواد نے لکھا ہے کہ "میری سیاست میں سب سے بڑی خدمت یہی ہے کہ میں نے سیاست میں نئے اصول متعارف کروا دیئے۔”

ٹوئٹر پر جاری کیے گئے اپنے استعفے میں انہوں نے لکھا ہے کہ

محترم وزیراعظم صاحب اسلام و علیکم آپ کی عزت افزائی کا شکریہ کہ آپ نے مجھے اپنا فوکل پرسن منتخب کیا لیکن آپ کی مجبوریوں کو دیکھتے ہوئے میں اندازہ کر سکتا ہوں کہ آپ اعلیٰ ترین عہدہ ضرور رکھتے ہیں لیکن حکومت کے تمام فیصلے تین مختلف جگہوں سے آئے ہیں آپ کی صلاحیتوں کا معترف ہوں لیکن آپ کی مجبوریوں کے پیش نظر میں اپنا استعفی پیش کر رہا ہوں۔

میں یہاں یہ وضاحت کردوں میں نے اپنی ڈیوٹی کے دوران نا تو کوئی تنخواه لی ، نا کوئی گاڑی ، نا کسی قسم کی کوئی اور سہولت یا رعایت لی۔

اپنی پوری سیاسی زندگی میں پی ٹی آئی اور مسلم لیگ دونوں جماعتوں سے ایک پائی کا فائدہ نہیں لیا ہمیشہ اپنی جیب پر انحصار کیا اور اپنے وسائل اور اپنے پیسے سے خلوص کے ساتھ جماعت کی مدد کی۔

جس ملک میں ناحق خون بہایا جائے اور ملک میں حقائق کبھی منظر عام پر نا آ سکیں ؟

جس ملک کا حکمران چاہے عمران خان ہو یا آپ ہوں ، بے بس ہو ، لاچار ہو ؟

جس ملک میں سچ موت کا پروانہ ہو جھوٹ کامیابی کی کنجی ہو ؟

جس ملک میں جھوٹ ترقی کا راستہ ہو اور اس کے خریدار معززین شہر یوں۔

جس ملک میں ووٹ کو عزت دو جیسے نعرے اقتدار کے حصول تک محدود ہوں۔

اس ملک کی عوام اور خاص طور پر جوانوں کو فیصلہ کرنا ہو گا کہ سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا ہے اور فیصلہ کی گھڑی آگئی ، اپنے ضمیر کی آواز سنیں۔

میں نے سچ کی تلاش میں اپنی زندگی کا قیمتی وقت اور سرمایہ لگایا اور ملک کی خاطر اپنا فرض ادا کیا۔

اس ملک کے ساتھ بڑے دکھوکے  ہو گئے اور میں کسی دھوکے کا حصہ دار نہیں بنوں گا۔

ارشد شریف کے قتل کی انکوائری کا انجام بھی وہی ہو گا جو لیاقت علی خان اور بینظیر کے قتل کا ہوا سانحوں کو کفن پہنانے کیلئے کمیشن بنتے ہیں ، ایک اور ایک اور سچ کو کفن پہنانے کی تیاری شروع ہو جاتی ہے۔

ایک حکمران کے طور قیامت کے روز جواب آپ کو دینا پڑے گا ، آپ اچھے آدمی ہیں اس گناہ میں شامل نا ہوں اور استعفی دیگر اپنی آخرت سنوار لیں ، یہ چند دن کی حکمران یا آخرت کی لامحدود زندگی سودا برا نہیں۔

اس ملک کو صرف سچ بچا سکتا ہے ، اس ملک کو نہ آئی ایم ایف ، نا فوج ، نا امریکہ ، نا چین ، نا سعودیہ اور نا آپ کی شب و روز کی محنت۔

وزیر اعظم صاحب میں پوری قوم سے اپیل کروں کا آپ سچ کے ساتھ کھڑے ہوں۔

متعلقہ تحاریر