شہباز شریف ، رانا ثناء ، میجر جنرل فیصل کو عہدوں سے فارغ کیا جائے، ورنہ پورا ملک بند کردیں گے، عمران خان

چیئرمین تحریک انصاف نے اسد عمر اور میاں اسلم اقبال کے ذریعے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ اگر ان تینوں افراد کو عہدوں سے نہ ہٹایا گیا تو ملک کو بند کردیں گے۔

پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما اسد عمر نے کہا ہے کہ اللہ کے فضل و کرم سے عمران خان صاحب کی حالت خطرے سے باہر ہے ، ڈاکٹرز نے ان کی صحت کے حوالے اطمینان دلایا ہے۔

میاں محمد اسلم کے ہمراہ اپنے ویڈیو پیغام میں اسد عمر نے کہا ہے کہ عمران خان صاحب کا سٹی سکین ہو گیا ہے اللہ کے فضل سے ان کی صحت ٹھیک ہے۔

یہ بھی پڑھیے

بلوچ اور کے پی طلباء کے خلاف نسل پرستانہ ریمارکس پر رضی دادا کو تنقید کا سامنا

وزیرآباد:پی ٹی آئی کے لانگ مارچ میں فائرنگ ، عمران خان سمیت 5 افراد زخمی

اسد عمر کا کہنا تھا کہ عمران خان کہتے تھے کہ میں اس ملک کی حقیقی آزادی کے لیے جان دینے کے لیے تیار ہوں ، اب اس میں شک کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔

رہنما تحریک انصاف اسد عمر نے اپنے ویڈیو پیغام میں مزید کہا ہے کہ دو دن پہلے میری ان سے بات ہوئی تھی ، خبریں آرہی تھیں کہ سیکورٹی کا بہت بڑا خطرہ ہے ، انہوں نے مجھ سے کہا اسد ہم جس کام کے لیے نکلے ہوئے ہیں وہ جہاد ہے ، ہمیں صرف اللہ پر ایمان رکھ کے اپنا کام کرنا چاہیے ، اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت کرے گا۔

اسد عمر کا کہنا تھا میں عمران خان کی جانب سے بیان جاری کررہا ہوں ۔ انہوں نے مجھے اور میاں اسلم اقبال کو بلایا اور کہا کہ میرے طرف سے یہ بیان جاری کرو کہ "تین لوگ اس حملے میں ملوث ہیں ، وہ شہباز شریف ، رانا ثناء اللہ اور میجر جنرل فیصل ہیں۔ میرے پاس اس کی انفارمیشن پہلے آچکی تھیں کہ میرے اوپر ان لوگوں نے حملہ کروانا ہے۔”

عمران خان کی جانب سے اسد عمر نے بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ "ان تینوں کو ان کے عہدے ہٹایا جائے ، اور اگر ان کو ان کے عہدوں سے نہیں ہٹایا گیا تو پھر ملک گیر احتجاج ہوگا ، اب پاکستان ان عمومی حالات کے ساتھ نہیں چل سکتا۔”

اسد عمر کا کہنا تھا کہ "یہ خان صاحب کا پیغام ساری قوم کے لیے ہے۔ جس دن بھی خان صاحب کال دیں گے ، تو ملک بھر میں احتجاج شروع کردیا جائے گا۔”

میاں اسلم اقبال کا کہنا تھا ہم عمران خان صاحب کے بیان کی روشنی میں ان تینوں افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کروانے جارہے ہیں ، اور متعلقہ آئی جی کو ہم اپنے درخواست دے رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب واقعے کے اوپر جے آئی ٹی تشکیل دے رہے ہیں جو اس سارے واقعے کی انکوائری کرے گی۔

متعلقہ تحاریر