جسٹس (ر) عبدالشکور پراچہ کی ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات سے معذرت

حکومتی کمیشن کے سربراہ نے مقتول کی والدہ کے عدم اعتماد، پہلی تحقیقاتی کمیٹی کے رکن عمر شاہد حامد کی کمیشن میں موجودگی اور کسی صحافی کو کمیشن کا حصہ نہ بنانے کو اپنے فیصلے کی وجہ قرار دیا ہے۔

جسٹس(ر) عبدالشکور پراچہ نے  مقتول صحافی ارشد شریف کی والدہ کے اعتراض اور وزیراعظم  شہبازشریف کی جانب سے چیف جسٹس عمر عطابندیال  سے فل کورٹ کمیشن کے قیام کی درخواست کے بعد ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات سے معذرت کرلی ہے۔

جسٹس (ر) عبدالشکور پراچہ نے اپنے فیصلے کی تفصیلی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ  کمیشن اس کیس میں اپنی تحقیقات کو آگے نہیں بڑھا سکے گا۔

یہ بھی پڑھیے

مقتول صحافی ارشد شریف کی زندگی پر مبنی دستاویزی فلم کا ٹیزر جاری کردیا گیا

ارشد شریف کی والدہ پوسٹ مارٹم رپورٹ کی عدم فراہمی پر عدالت پہنچ گئیں

ارشد شریف کو کینیا کی پولیس نے 23 اکتوبر کی رات گاڑی پر فائرنگ کرکے قتل کر دیا تھا ۔ابتدائی طور پر پولیس  نے موقف اپنایا تھا کہ ارشد شریف کی موت شناخت میں غلطی کا شاخسانہ ہے  ۔

تاہم بعدازاں کینین میڈیا کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ پولیس نے الزام عائد کیا ہے کہ واقعے سے قبل ارشد شریف کی گاڑی میں موجود ایک شخص نے نیم فوجی جنرل سروس یونٹ  )جی ایس یو) کے افسران پر فائرنگ کی تھی۔

بعدازاں حکومت پاکستان  نے قتل کی تحقیقات کیلیے  وفاقی تحقیقاتی ادارے(ایف آئی اے ) کے ڈائریکٹر اطہر واحد کی سربراہی میں 3 رکنی کمیٹی قائم کی تھی جس میں انٹیلی جنس بیورو ک ے ڈپٹی ڈائریکٹرجنرل( ڈی ڈی جی) عمر شاہد حامد اور انٹروسروسز انٹیلی جنس(آئی ایس آئی) کے لیفٹیننٹ کرنل سعد احمد شامل تھےبعدازاں آئی ایس آئی نے شفافیت یقینی بنانے کیلیے اپنے نمائندے کو دستبردار کرلیا تھا۔

پیر کو وفاقی کابینہ نے وزارت دفاع کی درخواست پرارشد شریف کی موت  کے حقائق جاننے کیلیے  تین رکنی کمیشن کی تشکیل کی منظوری بھی دی جس کی سربراہی ریٹائرڈ جج عبدالشکور پراچہ  کو سونپی گئی تھی جبکہ کمیشن کے دیگر دو ارکان میں ایڈیشنل انسپکٹر جنرل آف پولیس عثمان انور اورڈپٹی ڈائریکٹر جنرل انٹیلی جنس بیورو(آئی بی) عمرشاہد حامد شامل تھے ۔تاہم مقتول ارشد شریف کی والدہ نے اس کمیشن کو مسترد کرتے ہوئے چیف جسٹس سے اعلیٰ عدالتی کمیشن قائم کرنے کی درخواست کی تھی۔

انگریزی روزنامہ ڈان کے مطابق کمیشن کے سربراہ جسٹس (ر) عبدالشکور پراچہ نے گزشتہ روز جاری کردہ ایک بیان میں حکومت کو مطلع کیا ہے کہ کمیشن درج ذیل وجوہات کی بنا پر انکوائری کو آگے نہیں بڑھا سکے گا۔

1)ارشد شریف کی والدہ کا عدم اطمینان اور کمیشن کو مستردکرنا۔

2)مقتول  کی والدہ کی چیف جسٹس سے انصاف کی درخواست۔

3)ڈی ڈی جی عمر شاہد حامدکا پہلی تحقیقاتی ٹیم کے رکن کی حیثیت سے نیروبی کا دورہ کرنا ۔

4)میڈیا  کے کسی نمائندے کو کمیشن کاحصہ نہ بنانا۔

کمیشن کے سربراہ نے اپنے اعتراضات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ   عمر شاہد حامدکا اپنی تحقیقات کے  سابقہ ​​نتائج کی بنیاد پر کمیشن کا حصہ بننا  قانونی طور پر پائیدار نہیں ہے  ۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کے نمائندے کا کمیشن کا رکن ہونا ضروری ہے تاکہ  انصاف نہ صرف ہو بلکہ ہوتے ہوئے نظر بھی آئے ۔

انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف کی چیف جسٹس عمر عطا بندیال سے صحافی ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات کے لیے فل کورٹ کمیشن کی درخواست کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ  ”میرے خیال میں وزیراعظم کی درخواست نے)کمیشن کا)مقصد پورا کردیاہے “۔

متعلقہ تحاریر