قومی اسمبلی کا اجلاس کورم کی کمی کے باوجود تین گھنٹے تک جاری رہا
اسپیکر راجہ پرویز اشرف کی صدرت میں قومی اسمبلی کا اجلاس کورم پورا نہ ہونے کے باوجود تین گھنٹے تک جاری رہا۔ اجلاس میں صرف 11 ارکان اسمبلی نے شرکت کی اور صرف پی ٹی آئی مخالف تقاریر کیں، گزشتہ روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں قومی خزانے سے فنڈز کے ضیاع کا ذمہ دار کون ہوگا؟

قومی اسمبلی کا اجلاس کورم پورا نہ ہونے کے باوجود تین گھنٹے تک جاری رہا کیونکہ اجلاس میں شریک گیارہ ارکان اسمبلی نے صرف تحریک انصاف کی مخالفت میں تقاریر کیں۔
قومی اسمبلی کے اسپیکر راجہ پرویز اشرف نے گزشتہ روز ایوان زیریں کے اجلاس کی صدارت کی اور حکومتی ارکان کو تین گھنٹے تک تقریر کرنے کی اجازت دی۔
یہ بھی پڑھیے
قومی اسمبلی میں وراثت کے مقدمات کا فیصلہ 12 ماہ میں کرنے کا بل منظور
قومی اسمبلی کے اجلاس میں جن قانون سازوں نے تقاریر کی ان میں مہناز اکبر عزیز، مولانا اسد محمود، نفیسہ شاہ اور دیگر شامل تھے۔ انہوں نے اپنی تقاریر میں عمران خان اور تحریک انصاف کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
قومی اسمبلی کا کورم پورا نہ ہونے کے باوجود قومی خزانے سے اجلاس پر کروڑوں روپے خرچ کیے گئے کیونکہ ایوان زیریں کی کارروائی کے دوران پورا قومی اسمبلی سیکرٹریٹ اور ارکان اسمبلی کے لیے خدمات شروع کی گئیں۔
تجزیہ کاروں نے سوال کیا کہ کورم کی کمی کے ساتھ گزشتہ روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں قومی خزانے سے فنڈز کے ضیاع کا ذمہ دار کون ہوگا؟ ان کا کہنا تھا کہ قانون سازوں نے مختصر حاضری کے باعث اسپیکر قومی اسمبلی کو کارروائی ملتوی کرنے کا کیوں نہیں کہا؟۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایوان زیریں کا اجلاس اتنا ہی اہم تھا تو پھر حکومتی قانون سازوں نے پی ٹی آئی مخالف تقاریر کرنے میں وقت کیوں ضائع کیا ۔یہ جانتے ہوئے بھی کہ اپوزیشن ارکان قومی اسمبلی کی کارروائی میں شامل ہونے کا سوچ بھی نہیں رہے ہیں۔









