ڈیلی میل کے خلاف مقدمہ ، وزیر اعظم شہباز شریف کو لینے کے دینے پڑ گئے

برطانوی ہائی کورٹ نے وقت پر جواب جمع کرانے پر شہباز شریف اور ان کے داماد عمران علی یوسف کو 57 ہزار پاؤنڈ کا جرمانہ عائد کردیا۔

برطانیہ کی ایک ہائی کورٹ نے وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے داماد عمران علی یوسف کی طرف سے ڈیلی میل کے مالک اور ایسوسی ایٹڈ نیوز پیپرز لمیٹڈ کے خلاف ہتک عزت کے مقدمے میں توسیع کی درخواست مسترد کر دی ہے۔

عدالت نے شریف شریف کو 30,000 برطانوی پاؤنڈ جبکہ  عمران علی یوسف کو 27,055 برطانوی پاؤنڈ قانونی فیس ادا کرنے کا بھی حکم دے دیا ہے ، کیونکہ دونوں کی جانب سے جواب جمع کرانے میں تاخیر کی جارہی تھی۔

یہ بھی پڑھیے

لاہور ہائی کورٹ: پی ٹی آئی کا لانگ مارچ روکنے سے متعلق درخواست سماعت کے لیے منظور

نئے آرمی چیف کی تعیناتی ، ترپ کا پتا آصف زرداری کے پاس

جسٹس میتھیو نکلن نے اپنا فیصلہ صادر کرتے ہوئے حکم دیا کہ دونوں دعویداروں کے ہتک عزت کے مقدمات ایک ساتھ سنے جائیں گے۔

عدالت نے وزیر اعظم شہباز شریف اور ان کے داماد کو 23 دسمبر تک جواب جمع کرانے کی مہلت دی ہے، ایسا نہ کرنے کی صورت میں ان کا ہتک عزت کا دعویٰ ختم کر دیا جائے گا۔

جسٹس میتھیو نکلن نے قانونی فیس کی ادائیگی کے لیے ایک ڈیڈ لائن بھی دی ہے، جس میں وزیر اعظم شہباز کو 30,000 برطانوی پاؤنڈ (7.8 ملین روپے) کی ادائیگی کے لیے 23 نومبر تک کا وقت دیا گیا۔

عمران علی یوسف کو 4,509 برطانوی پاؤنڈز کی پہلی قسط اسی تاریخ کو ادا کرنی ہوگی جس تاریخ کو وزیراعظم شہباز نے ادا کرنی ہے۔ تاہم قانونی اخراجات کی کل رقم جو انہیں ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے وہ   27,055 برطانوی پاؤنڈ (Rs7.1 ملین روپے) ہے ، جو چھ قسطوں میں ہر 28 دن کے وقفے پر ادا کی جائے گی۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف کے وکیل نے وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت کے سربراہ ہونے کی وجہ سے مصروفیات کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت سے وقت مانگا تھا جسے مسترد کردیا گیا تھا۔

دوران سماعت برطانوی ہائی کورٹ کے جج جسٹس میتھیو نکلن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ان کی عدالت میں وزیراعظم اور عام آدمی برابر ہے ، اور درخواست مسترد کردی۔

کیس کا پس منظر

شہباز شریف نے ڈیلی میل اور اس کے صحافی ڈیوڈ روز کے خلاف یہ مقدمہ ایک مضمون کی اشاعت کے بعد دائر کیا تھا جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ شہباز نے زلزلہ زدگان کے لیے برطانوی ترقیاتی ادارے کی طرف سے بھیجی گئی رقم میں غبن کیا تھا۔ جس وقت یہ مبینہ غبن ہوا اس وقت شہباز شریف وزیراعلیٰ پنجاب تھے۔

مسلم لیگ ن کے سربراہ نے اپنے مقدمے میں ڈیلی میل کے الزامات کو جھوٹا اور پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے ہرجانے کا مطالبہ کیا تھا۔

مارچ 2022 میں، شہباز شریف کی جانب سے مقدمہ دائر کرنے کے تقریباً ایک سال بعد، ڈیلی میل میں خبر شائع کرنے والی کمپنی ایسوسی ایٹڈ نیوز پیپرز لمیٹڈ نے عدالت میں اپنا جواب داخل کیا ، اور وہ شواہد پیش کیے جن کی بنیاد پر اس نے خبر شائع کی تھی۔

برطانیہ کی عدالت نے شہباز شریف کے وکلا کو جواب داخل کرانے کا حکم دیا تھا جو تاحال جمع نہیں کیا گیا۔ اب عدالت نے شہباز شریف کو مزید وقت دینے سے انکار کر دیا ہے۔

متعلقہ تحاریر