شہزادہ سلمان کے دورے کے التوا کو دھرنے سے جوڑنے پر فواد چوہدری کی خواجہ آصف پر تنقید
یہ پاکستان کے اہم وزیر ہیں اور انکی اخلاقی حالت یہ ہے کہ انھیں جھوٹ بولتے ذرا بھی مسئلہ نہیں، محمد بن سلمان نےصرف پاکستان نہیں پورے ایشیا کا دورہ ملتوی کیا ہے، رہنما تحریک انصاف

تحریک انصاف کے سینئررہنما اور سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے سعودی ولی عہد اور وزیراعظم محمد بن سلمان کے دورہ پاکستان کے التوا کو تحریک انصاف کے دھرنے سے جوڑنے پر وزیردفاع خواجہ آصف کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔
وزیردفاع خواجہ آصف نے سعودی وزیراعظم کے دورے کے ملتوی ہونے پر سابق وزیراعظم عمران خان کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
عمران خان پر قاتلانہ حملے کی تحقیقات کیلئے پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ رجوع کرلیا
وزیراعظم شہباز شریف لندن کے 5 روزہ لاحاصل دورے کے بعد وطن واپس پہنچ گئے
وزیردفاع خواجہ آصف نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا تھا کہ عمران خان نے پہلے دھرنا دیکر7 سال قبل چینی صدر کا دورہ منسوخ کروایا تھااب21 نومبر والے دھرنے کے اعلان سےسعودی عرب کے ولی عہد اور وزیراعظم کا دورہ ملتوی ہوگیا۔
عمران خان نے پہلے دھرنے پہ7 سال قبل چینی صدر کا دورہ کینسل کروایا تھااب21 نومبر والے دھرنے کے اعلان سےسعودی عرب کے ولیعہد اور وزیراعظم کا دورہ ملتوی.IK سواۓ اپنے مفادات کے علاوہ کوئ سوچ نہیں رکھتا.ملک و قوم کے مفادات کے کوئی معنی نہیں.یہ شخص ملک کیخلاف ایجنڈا پہ کام کر رہا ھے
— Khawaja M. Asif (@KhawajaMAsif) November 12, 2022
انہوں نے کہا کہ تھا کہ عمران خان اپنے مفادات کے علاوہ کوئی سوچ نہیں رکھتا،ملک و قوم کے مفادات کے کوئی معنی نہیں یہ شخص ملک مخالف ایجنڈے پرکام کررہا ہے۔
تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری نے خواجہ آصف کے ٹوئٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ پاکستان کے اہم وزیر ہیں اور انکی اخلاقی حالت یہ ہے کہ انھیں جھوٹ بولتے ذرا بھی مسئلہ نہیں، محمد بن سلمان نےصرف پاکستان نہیں پورے ایشیا کا دورہ ملتوی کیا ہے ۔
دوسری حقیقت یہ ہے کہ دوسرے ممالک کے تجزیہ کار اپنے حکمرانوں کو رائے دے رہے ہیں اور ان کا تجزیہ یہ ہے کہ موجودہ حکمرانوں سے تعلق پاکستان کے عوام سے لاتعلقی کا اظہار ہو گا لہذاٰ کوئ بھی ملک جسے پاکستان سے لانگ ٹرم تعلقات میں دلچسپی ہے وہ موجودہ حکمرانوں سے فاصلہ رکھے گا
— Ch Fawad Hussain (@fawadchaudhry) November 13, 2022
انہوں نے مزید کہا کہ دوسری حقیقت یہ ہے کہ دوسرے ممالک کے تجزیہ کار اپنے حکمرانوں کو رائے دے رہے ہیں اور ان کا تجزیہ یہ ہے کہ موجودہ حکمرانوں سے تعلق پاکستان کے عوام سے لاتعلقی کا اظہار ہو گا لہٰذاکوئ بھی ملک جسے پاکستان سے طویل مدتی تعلقات میں دلچسپی ہے وہ موجودہ حکمرانوں سے فاصلہ رکھے گا۔









