ٹوئٹر پر ‘تھپڑ شریف’ کیوں ٹرینڈ کررہا ہے؟

ٹوئٹر پر 'تھپڑ_شریف' کے نام سے حیران کن  طور پر ٹرینڈ اس وقت سامنے آیا ہے جب کچھ سینئر صحافیوں کی جانب سے یہ دعویٰ کیا جارہا ہے کہ جمعہ کی رات وزیر اعظم ہاؤس میں کسی کو تھپڑ مارا گیا۔

اسلام آباد کے کچھ صحافیوں کی جانب سے یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ جمعے کی رات وزیراعظم ہاؤس میں کسی کو تھپڑ مارا گیا ہے ، جس کے بعد ٹوئٹر پر حیران کن طور پر "تھپڑ_شریف” ٹرینڈ بن گیا ہے۔

کسی کو بھی اس بات کا مکمل ادراک نہیں کہ وزیراعظم ہاؤس میں کیا ہوا ہے ، تاہم کچھ سینئر صحافیوں کی جانب سے دعویٰ کیا جارہا ہے کہ پی ایم ہاؤس میں کسی کو تھپڑ پڑا ہے ، جس کے بعد ٹوئٹر پر "تھپڑ شریف” کا ٹرینڈ بن گیا ہے۔

Top trending on Twitter

تھپڑ کی گونج کے حوالے سے سینئر صحافی اور وی لاگر عمران ریاض خان نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ” پہلے خبر دی عمران خان پر آخری دن حملہ کیا اب کہا جا رہا ہے کہ شہباز شریف کو بھی آج نشانہ بنایا گیا۔”

عمران ریاض خان نے مزید لکھا ہے کہ ” یہ جھوٹی خبریں اپنی جعلی دہشت پھیلانے کے لیے پلانٹ کی جاتی ہیں۔ کسی کو بھی تشدد یا بد معاشی کا حق نہیں پہنچتا۔”

یہ بھی پڑھیے

فرح گوگی نے اپریل 2019 میں دبئی کا سفر نہیں کیا ، فیکٹ فوکس حقائق سامنے لے آیا

مفتی اعظم پاکستان و سربراہ دارالعلوم کراچی مفتی رفیع عثمانی انتقال کرگئے

پاکستانی صحافت کے سینئر ترین نام سمیع ابراہیم نے بھی اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر لکھا ہے کہ "تشدد کس پر ھوا ھے اور کیوں ۔۔اور وہ بھی وزیر اعظم ھاوس میں ؟؟؟؟

سینئر صحافی نے ایک ڈرامے کا کلپ شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ” ڈرامہ اپریل میں شروع ہوا تھا لیکن تھپڑ مارنے کا واقعہ نومبر میں پیش آیا ہے۔”

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام شیئر کرتے ہوئے سینئر صحافی مغیث علی نےلکھا ہے کہ ” ریکٹر سکیل پر تھپڑ کی شدت کتنی تھی۔؟”

تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر جس بات کے چرچے کیے جارہے ہیں اس حوالے سے کوئی تصدیقی حقائق سامنے نہیں آئے ہیں۔

متعلقہ تحاریر