احمد نورانی نے پیشہ ورانہ ساکھ پربیہودہ الزام لگانے پر نجم سیٹھی کو آئینہ دکھادیا
سینئر اینکرپرسن نے احمد نورانی کی آرمی چیف اور ان کے اہلخانہ کے ٹیکس گوشواروں سے متعلق حالیہ تحقیقاتی خبر کو فوج کے اندورنی حلقوں یا حکمراں جماعت ن لیگ کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

تحقیقاتی صحافی احمد نورانی نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ان کے اہل خانہ کے ٹیکس گوشواروں کی تفصیلات سے متعلق تحقیقاتی خبر پر تنقید اور اپنی ساکھ پر بیہودہ الزامات لگانے پر سینئر اینکر پرسن اور صحافی نجم سیٹھی کو آئینہ دکھادیا۔
سینئر اینکرپرسن نجم سیٹھی نے احمد نورانی کی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور ان کے اہلخانہ کے ٹیکس گوشواروں سے متعلق حالیہ تحقیقاتی خبر کو فوج کے اندورنی حلقوں یا حکمراں جماعت ن لیگ کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
غیرمشروط معافی پر سپریم کورٹ نے فیصل واوڈا کی تاحیات نااہلی ختم کردی
نئے آنے والے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کون ہیں؟
احمد نورانی نے کہا کہ جس شخص نے پوری زندگی ایجنسیوں کے دیے ہوئے کاغذات پر صحافت کی ہو،جن لوگوں کے خیال میں خبر وہی بڑی ہوسکتی ہے جو ایجنسیوں نے فراہم کی ہو، جن لوگوں کے خیال میں لیگ ورک کوئی چیز ہی نہیں ہوسکتی، جن لوگوں کے خیال میں کوئی شخص چل کر جاکے کسی دفتر میں ، کسی بندے سے مل کر ، کوئی ذریعہ بناکر،کسی بندے سے کوئی ثبوت لیکر یا کوئی شخص اپنی ساکھ ایسی بنالے کہ کسی ادارے میں بیٹھا شخص یہ دیکھے کہ میرے ملک سے زیادتی ہورہی ہے،میرے ملک کو لوٹا جارہا ہے،طاقتور عہدوں پر بیٹھے ارباب اختیار اثاثوں کو لوٹ رہے ہیں،اپنے اثاثے بنارہے ہیں، وہ سرمایہ بیرون ملک منتقل کررہےہیں اور کوئی بندہ آپ کی ساکھ کی وجہ سے کوئی دستاویز لاکر دیدے تو آپ کے خیال میں تو ایسی خبر ، خبر ہی نہیں ہے کیونکہ خبر صرف انٹیلی جنس ایجنسی دیتی ہے، خبر صرف آئی ایس آئی دیتی ہے۔
احمد نورانی کا تہلکہ خیز انکشاف
نجم سیٹھی احمد نورانی صاحب کو فون کر کے پوچھتے پھرتے تھے کہ باجوہ صاحب پر کیا کوئی سٹوری کر رہے ہیں ؟
افففففففف 🔥🔥🔥@Ahmad_Noorani pic.twitter.com/fcJvZi9NZ8— Anum Sheikh (@iAnumSheikh) November 24, 2022
احمد نورانی نے مزیدکہا کہ سیٹھی صاحب !آپ کا سارا کیریئر ایجنسیوں کی خبروں پر چلتا رہا جسے آپ چڑیا کا نام دیتے رہے،کبھی ایجنسیاں براہ راست آپ کو خبریں دیتی رہیں اور کبھی ملک ریاض کے ذریعے دیتی رہیں اور آپ سمجھتے رہے کہ آپ کی چڑیا ہے لیکن یہ آئی ایس آئی تھی۔
احمدنورانی نے کہاکہ میں نے 2002 سے آج تک جتنی خبریں کیں ، وہ 2007 سے لیکر آج تک جنگ اور جیو کی ویب سائٹ پر موجود ہیں،میں ایک ایک خبر کیلیے ذمے دار ہوں،انسان سے خبر کبھی کمزور بھی ہوجاتی ہے، کبھی کوئی پوائنٹ خراب بھی ہوجاتا ہے لیکن میں ایک ایک چیز کے بارے میں بتانے کیلیے تیار ہوں کہ یہ خبر کیسے ہوئی اور اس میں کون کون سا طریقہ استعمال کیا گیا اور خدا کا کرم ہے کہ اس میں ایجنسی کی دی ہوئی کوئی بھی چیز شامل نہیں تھی۔
انہوں نے کہا کہ سیٹھی صاحب !سب سے بڑی بات یہ ہوتی ہے کہ جس بندے نے کبھی خود کوئی کام نہ کیا ہو،جس کے پاس پیسہ ہو، ذرائع ہوں، تعلق ہو وہ ایک فون اٹھاتا ہے، دو باتیں ادھر سے سنیں،اُدھر سے سنیں اور ملاکر خبربنادی، آپ صاف ظاہر ہے میاں صاحب کے پاس جائیں گے، وہ آپ کو کشتی پر بٹھاکراپنے اگلے ایک دو منصوبے بتائیں گے، آپ کے پاس برے لوگوں کی قربت والی معلومات ہوگی،آپ کو لوگ بڑی عزت سے بلائیں گے،وہ ایک آدھ معلومات جو آپ رپورٹ کردیں گے وہ صحیح ہوجائے گی تو آپ اگلے پورے ایک مہینے اس پر کھیلتے رہیں گے اور پندرہ بیس غلط خبریں بھی دیں گے لیکن لوگ یہ نہیں سوچیں گے کہ آپ نے کیاکیاغلط دیا اور کیا کیا غلط کیا کیونکہ آپ اپنا ایک تاثر بنالیتے ہیں کہ چڑیا یہ خبر دے رہی ہے اور جیسے ہی وہ خبر غلط ثابت ہوتی ہے آپ خبر کو توڑ مروڑدیتے ہیں کہ حالات تبدیل ہورہی ہیں۔
احمد نورانی نے کہا کہ اس طرح الفاظ سے کھیلنا ہمیں بھی آتا ہے،سیٹھی صاحب الفاظ سے کھیلنا الگ بات ہوتی ہےاورتحقیقاتی صحافت الگ بات ہوتی ہے،تحقیقاتی صحافت مختلف چیز ہے، اگر آپ دیانت داری سے غصہ ایک طرف رکھ کرپچھلے دو سال کی پاکستان کے تمام میڈیا ہاؤسز کی تحقیقاتی خبریں نکالیں اور فیکٹ فوکس کی خبریں نکالیں اور ملک کے 3 صف اول کے تحقیقاتی صحافیوں سے فیصلہ کروالیں کہ کس کی خبروں میں زیادہ دم تھا، کس خبروں میں زیادہ مواد تھا،کون صحیح معنوں میں تحقیقاتی صحافت کی تعریف پر پورا اترتا تھا۔
انہوں نے نجم سیٹھی کومخاطب کرتے ہوئے مزید کہا کہ آپ جیسے لوگ بیٹھ کر کچھ بھی کہہ دیتے ہیں، آپ کے نذدیک کسی بندے کی عزت کا کوئی احساس ہی نہیں،آپ سمجھتے ہیں کہ جس طرح کی گھٹیا صحافت آپ نے اپنے پورے کیریئر میں کی ہےکہ دوچار لوگوں سے تعلق بنالیا، دوچار لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر دو گلاس پی لیے،کسی کو فائدہ دیدیا،کسی سے فائدہ لے لیا اور پھر آپ کو دو خبریں مل گئیں اور آپ وہ بیچ کر اچھے کپڑے پہن کر ، اچھے اسٹوڈیو میں بیٹھ کرباتیں کیں اور وہ چیزیں بیچ دیں، سیٹھی صاحب اس طرح صحافت نہیں ہوتی۔
احمد نورانی نے کہا کہ آپ کے ساتھ بیٹھنے والے لوگوں کو ایک ڈیڑھ سال سے اس خبر کا علم تھا،میں حلفاً یہ بات کہہ رہا ہوں کہ آپ ان صحافیوں میں شامل تھے جنہوں نے قمر جاوید باجوہ کے کہنے پر مجھ سے رابطہ کیا تھااور پوچھا تھاکہ آپ آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کے بارے میں کوئی خبر کررہے ہیں،نجم سیٹھی صاحب اس بات کا جواب دیجیے گا،انہوں نے کہا کہ آپ سے رابطے میں رہنے والے سیاسی اور سفارتی حلقوں نے ایک سے ڈیڑھ سال پہلے یہ پوچھ پوچھ کر میری زندگی اجیرن بنادی تھی کہ آپ آرمی چیف کےبارے میں خبر کررہے ہیں۔آج آپ مجھے بتارہے ہیں کہ 8،9 ماہ پہلے ایک واقعہ ہوا ، آپ میں ان کی لڑائی ہوئی، دو گروپ بن گئے اور ایک اور بندہ جاتے جاتے مجھے خبر دے گیا،آپ کو ایک صحافی کے بارے میں ایسی بات کرتے ہوئے شرم آنی چاہیے۔
احمد نورانی نے نجم سیٹھی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اور جن لوگوں کا میں نے ذکر کیا جو آپ کے ساتھ سب چیزوں میں شامل ہوتے ہیں ان سے پوچھیے گا کہ کس طرح ہم کام کرتے رہے اور کس طرح ہم جائیدادوں کی دستاویزات نکلواتے رہے،لیکن سب سے مضبوط دستاویزات وہ ہیں جو ہم نے رپورٹ کیے ہیں۔









