کیا سلیم صافی اور نواز شریف کی یورپ میں ملاقات محض اتفاق ہے؟
معروف کالم نگار اور جیو نیوز کے اینکر پرسن سلیم صافی کی اٹلی میں موجودگی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف سے ان کی ملاقات نے کئی سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔
معروف کالم نگار اور جیو نیوز کے اینکر پرسن سلیم صافی کی اٹلی میں موجودگی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف سے ان کی ملاقات نے کئی سوالات کھڑے کردیئے ہیں جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ آیا یہ محض اتفاق تھا یا ایک منصوبہ بندی ملاقات کی گئی تھی۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ناقد سلیم صافی نے ٹویٹر پر ایک یورپی ملک اٹلی کے دورے کے دوران نواز شریف کے ساتھ بیٹھے ہوئے اپنی ایک تصویر شیئر کی۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ” چند روز قبل نوازشریف کے ساتھ چند گھنٹے گپ شپ کا موقع ملا۔ تب آرمی چیف کی تقرری کے ایشو پر ہر پاکستانی مظطرب تھا لیکن وہ انتہائی مطمئن تھے بلکہ مریم اور جنید کی موجودگی سے بہت خوش تھے۔”
چندروزقبل نوازشریف کےساتھ چندگھنٹےگپ شپ کاموقع ملا۔تب آرمی چیف کی تقرری کےایشوپرہرپاکستانی مظطرب تھالیکن وہ انتہائی مطمئن تھےبلکہ مریم اورجنیدکی موجودگی سےبہت خوش تھے۔میری ہرتشویش پرکوئی خاص توجہ نہ دی۔تقرری اورمارچ کےمعاملات پرعمران کی ناکامی کےبعدانکےاطمینان کی وجہ سمجھ آئی؟ pic.twitter.com/axTACcZitK
— Saleem Safi (@SaleemKhanSafi) November 28, 2022
اپنی تشویش پر نواز شریف کے ردعمل پر تبصرہ کرتے ہوئے سلیم صافی نے مزید لکھا ہے کہ "میری ہر تشویش پر کوئی خاص توجہ نہ دی۔ تقرری اور مارچ کے معاملات پر عمران کی ناکامی کے بعد انکے اطمینان کی وجہ سمجھ آئی؟۔”
واضح رہے کہ نواز شریف اپنی صاحبزادی مریم نواز کے ہمراہ پاکستانی حکومت کی جانب سے سفارتی پاسپورٹ ملنے کے بعد یورپ کے دورے پر روانہ ہوئے تھے۔
اس ملاقات کے حوالے سے کچھ روز قبل اینکر پرسن سلیم صافی نے اپنے ایک ٹوئٹ میں لکھا تھا کہ ” اٹلی کے علاقے میلان کا سویٹزرلینڈ کے بارڈر کے ساتھ علاقے کا خوبصورت منظر۔ خوب سیرت دوستوں کے ساتھ۔ جہاں کچھ دن بڑے سکون سے گزرے۔”
اٹلی کے علاقے میلان کا سویٹزرلینڈ کے بارڈر کے ساتھ علاقے کا خوبصورت منظر۔ خوب سیرت دوستوں کے ساتھ۔ جہاں کچھ دن بڑے سکون سے گزرے ۔ pic.twitter.com/W99K8M7sOf
— Saleem Safi (@SaleemKhanSafi) November 22, 2022
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سلیم صافی اور نواز شریف کے درمیان ملاقات ایک اہم وقت پر ہوئی جب حکمران مسلم لیگ (ن) 2023 کے عام انتخابات سے قبل اپنے پارٹی کے سربراہ کی پاکستان واپسی کی راہ ہموار کرنے اور پی ٹی آئی کی جانب سے نئے انتخابات کے مطالبے اور اسمبلیاں تحلیل کرنے کے اعلان کے بعد نئے چیلنجز سے نمٹنے میں مصروف ہے۔









