نواز شریف اندرونی دباؤ کے باوجود وطن واپسی سے گریزاں

پنجاب اور کے پی کے اسمبلیاں تحلیل ہونے کے بعد ملک میں فوری عام انتخابات کی صورت میں ن لیگ  کیلیے نوازشریف کے بغیر انتخابی مہم میں تحریک انصاف کے بیانیے کا مقابلہ کرنا مشکل ہوجائے گا، پارٹی رہنماؤں نے نوازشریف کو خدشات سے آگاہ کردیا

مسلم لیگ ن کے قائد میاں نواز شریف پر وطن واپسی کیلیے پارٹی رہنماؤں کا دباؤ بڑھ گیا تاہم وہ وطن واپسی سے گریزاں ہیں اور تاحال کوئی تاریخ بھی نہیں دے سکے ہیں۔

پارٹی رہنماؤں کا  خیال ہے کہ تحریک انصاف  کی جانب سے پنجاب اور خیبرپختونخوا کی اسمبلیاں تحلیل کیے جانے کے بعد پی ڈی ایم جماعتوں کو نہ چاہتے ہوئے بھی انتخابات  میں جانا پڑے گا۔

یہ بھی پڑھیے

پنجاب اسمبلی بچانا درد سر بن گیا، ن لیگ لاہور ہائیکورٹ جاپہنچی

عمران خان نے فوجی شہداء کے خلاف بدترین غلیظ مہم چلائی، مریم اورنگزیب

ذرائع  کے مطابق  لیگی رہنماؤں کا خیال ہے کہ  ملک میں فوری عام انتخابات کی صورت میں ن لیگ  کیلیے نوازشریف کے بغیر انتخابی مہم میں تحریک انصاف کے بیانیے کا مقابلہ کرنا مشکل ہوجائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ پارٹی  کے اندرونی حلقوں نے نوازشریف پر وطن واپسی کیلیے دباؤ بڑھادیا ہے۔

ذرائع کے مطابق پارٹی قیادت کا خیال ہے کہ عمران خان نے تحریک عدم اعتماد کی کامیاب کے بعد ملک بھر میں بالعموم اور وسطی پنجاب میں بالخصوص اپنے بیرونی سازش کے بیانیے سے  جوماحول پیدا کیا ہے اس کا مقابلہ نوازشریف اور مریم نواز ہی کرسکتے ہیں۔

مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے شبہ ظاہر کیا کہ اگر پنجاب اسمبلی تحلیل کر کے قبل از وقت انتخابات کا اعلان کیا گیا تو پارٹی کے لیے سیاسی نتائج کو برداشت کرنا مشکل ہو جائے گا۔

پارٹی قیادت کا خیال ہے کہ عام انتخابات کا اعلان ہونے سے قبل نوازشریف اور مریم نواز کی وطن واپسی پارٹی کارکنوں اور ناراض ووٹرز میں نئی روح پھونک سکتی ہے اور گزشتہ 8 ماہ میں ہونے والے نقصان کا ازالہ بھی کرسکتی ہےبصورت دیگر پارٹی قیادت کیلیے ووٹرز کو قائل کرنا بہت مشکل ہوجائے گاتاہم میاں نوازشریف نے نہ تو خدشات کا جواب دیا اور نہ ہی وطن واپسی کا کوئی اعلان کیا۔

متعلقہ تحاریر