عام انتخابات وقت پر ہوں گے،اسمبلیاں ٹوٹیں تو 2 صوبوں میں الیکشن ہوگا، رانا ثنا اللہ

اگر استعفے دینے کا فیصلہ کر لیا ہے تو 20 دسمبر تک انتظار کیوں کیا جارہا ہے، عمران خان کو  کرپٹ سسٹم میں نہیں رہنا تو سینیٹ اور آزاد کشمیر سے باہر جائیں، صدر سے استعفیٰ دلوائیں، وزیرداخلہ

وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ عام انتخابات وقت پر ہوں گے،اسمبلیاں توڑی گئیں تو 2 صوبوں میں الیکشن کرائیں گے۔

وزیرداخلہ نے مزید کہا کہ اگر استعفے دینے کا فیصلہ کر لیا ہے تو 20 دسمبر تک انتظار کیوں کیا جارہا ہے، عمران خان کو  کرپٹ سسٹم میں نہیں رہنا تو سینیٹ اور آزاد کشمیر سے باہر جائیں، صدر سے استعفیٰ دلوائیں۔

یہ بھی پڑھیے

نواز شریف اندرونی دباؤ کے باوجود وطن واپسی سے گریزاں

پنجاب اسمبلی بچانا درد سر بن گیا، ن لیگ لاہور ہائیکورٹ جاپہنچی

وفاقی وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ کا اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب میں کہنا تھا کہ عمران خان نے جلسوں میں ناکام ہوکے، تقریریں کر کے، اسمبلیاں توڑنا، آئین، قانون اور جمہوری عمل کی توہین ہے۔خیبرپختو نخوا اور پنجاب اسمبلیوں کوتوڑنے کی بات کرکے بحرانی کیفیت پیداکی گئی۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر یہ عجیب بات ہے کہ سسٹم عمران خان کواقتدار دے تو کرپٹ نہیں، اگر نہ دے تو برا ہے۔شنید ہے کہ پی ٹی آئی کے ارکان 20 دسمبر سے استعفے دیں گے۔انہوں نے سوال کیا کہ اگر استعفے دینے کا فیصلہ کر لیا ہے تو 20 دسمبر تک انتظار کیوں کیا جارہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسمبلیاں توڑنا کسی سیاسی جماعت اور نہ ملک کے حق میں ہے۔یہ تحریک انصاف کی بھول ہےکہ وہ یہ جیت کر واپس آجائیں گے۔وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ ان کی جماعت الیکشن سے خوفزدہ نہیں ،کوئی نہ سمجھے کہ ہم الیکشن سے پیچھے ہٹیں گے۔ہم کمپین کریں گے۔

ان کا کہنا ہے کہ سیاسی عدم استحکام کو روکنے کی کوشش کی جائے گی، جو بھی مسائل ہوئے انہیں آئین اور قانون کے مطابق حل کریں گے۔جو بھی اس کو آئین کے تحت روکنے میں ہوسکتا ہے اس طرف جائیں گے، عمران خان کو اگر کرپٹ سسٹم میں نہیں رہنا تو سینیٹ اور آزاد کشمیر سے باہر جائیں اور صدر ست استعفیٰ دلوائیں۔

رانا ثناء اللہ کا کہنا تھا کہ عام انتخابات  مقررہ وقت پر ہوں گے اور اسمبلیاں آئینی مدت پوری کریں گی۔اسمبلیاں توڑنے سے پہلے اسپیکر قومی اسمبلی  کے پاس آئیں اور کہیں استعفے قبول کیے جائیں۔پارلیمنٹ لاجز، گھر،گاڑیاں،تنخواہیں اور مراعات نہیں چھوڑتے اور شور مچاتے ہیں۔عمران خان کو سیاسی روایات کے تحت مسائل پر بات کرنی چاہیے تھی۔26نومبر کو عمران خان ناکام ہوئے ، لانگ مارچ میں عوام نے ساتھ نہیں دیا۔

متعلقہ تحاریر