ایم کیو ایم کے دھڑوں میں لندن کی 7 جائیدادوں پر جوتیوں میں دال بٹنے لگی
پاکستان میں ایک طرف فاروق ستار تو دوسری طرف امین الحق، خالد محمود صدیقی اور وسیم اختر نے مورچہ سنبھال لیا، لندن میں ندیم نصرت اور طارق می بھی الطاف حسین کے مدمقابل، جائیدادیں کراچی کے عوام کے پیسوں سے بنائی گئیں، کسی فرد واحد کے بجائے پارٹی یا عوام کو ملنی چاہئیں، ناقدین

متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) لندن اور پاکستان کے دھڑوں کے درمیان 10 ملین پاؤنڈ مالیت کی لندن کی7جائیدادوں کا کنٹرول حاصل کرنے کی قانونی جنگ تیز ہوگئی ہے۔
ایم کیوایم کی لندن میں موجود 10 ملین پاؤنڈ کی 7 جائیدادوں کی ملکیت کا تنازع زورپکڑگیا۔پارٹی کے مختلف دھڑوں میں جائیدادوں کی ملکیت کے تنازع پر جوتیوں میں دال بٹنے لگی۔ پاکستان اور لندن میں پارٹی کے مختلف دھڑوں نے اپنے اپنے مورچے سنبھال لیے۔
یہ بھی پڑھیے
ندیم نصرت کا الطاف حسین پر امریکا میں اپنے قتل کی منصوبہ بندی کا الزام
ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین نے پاکستانی سیاست میں واپسی کی کوششیں تیز کردیں
پاکستان میں ایک طرف فاروق ستار تو دوسری طرف امین الحق، خالد محمود صدیقی اور وسیم اختر نے مورچہ سنبھال لیا، لندن میں ندیم نصرت اور طارق می بھی الطاف حسین کے مدمقابل کھڑے ہوگئے۔
ذرائع کے مطابق ایم کیو ایم کی پاکستان میں 35جبکہ لندن میں9جائیدادیں تھیں جن میں سے 2 الطاف حسین فروخت کرچکے، باقی ماندہ 7 جائیدادوں پر لندن ہائیکورٹ میں مقدمہ جاری ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ ایم کیویم کی لندن میں اور پاکستان میں تمام جائیدادیں کراچی کے شہریوں کے چندے اور بھتے کی رقوم سے بنائی گئی ہیں۔ ناقدین کا یہ بھی کہنا ہے کہ سیاسی جماعت کی جائیداد کسی فرد کی نہیں بلکہ پارٹی کی ملکیت ہوتی ہیں اور کوئی فرد واحد ان کی ملکیت کا دعویٰ نہیں کرسکتا۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کیس کا جو بھی فیصلہ ہو، جائیدادوں کی ملکیت یا پیسہ کسی فرد واحد کے بجائے بحیثیت جماعت ایم کیوایم یا کراچی کے شہریوں کو ملنا چاہیے۔
گزشتہ روز دنیا نیوز کے پروگرام میں کامران خان کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے ایم کیوایم کے سابق رہنما ندیم نصرت نے دعویٰ کیا کہ لندن کی تمام جائیدادیں 2002 کے بعد خریدی گئی ہیں ، اس سے قبل وہاں ایم کیوایم کی ایجویرروڈ پر صرف ایک جائیداد تھی جس میں الطاف حسین مقیم ہیں۔









