اسلام آباد ہائی کورٹ سے سلیمان شہباز کو بڑا ریلیف ، ایف آئی اے کو گرفتاری سے روک دیا

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے سلیمان شہباز کو 13 دسمبر تک سرنڈر کرنے کا حکم دیتے ہوئے ایف آئی اے کو گرفتاری سے روک دیا ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایف آئی اے کو وزیراعظم کے صاحبزادے کی گرفتاری سے روکتے ہوئے حکم دیا ہے، سلیمان شہباز  کو منی لانڈرنگ کیس میں سرنڈر کرنے کیلئے ایئرپورٹ آمد پر گرفتار نہیں کیا جائے گا۔ سلیمان شہباز کو 13 دسمبر تک سرنڈر کرنے کا حکم دیتے ہوئے عدالت نے کہا کہ ملزم کو غیر موجودگی میں ضمانت نہیں دی جاسکتی۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے سلیمان شہباز کی جانب سے دائر درخواست کی سماعت کی۔

وزیراعظم کے صاحبزادے سلیمان شہباز کے وکیل امجد پرویز عدالت کے سامنے پیش ہوئے اور موقف پیش کیا کہ ان کے موکل سلیمان شہباز اکتوبر 2018 سے بیرون ملک ہیں، اور ان کے جانے کے بعد ان کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ ان کے مؤکل کو حفاظتی ضمانت دی جائے۔

یہ بھی پڑھیے

سلیمان شہباز کی وطن واپسی کی منصوبہ بندی، حفاظت ضمانت کے لیے عدالت سے رجوع

الیکٹرونک ووٹنگ کے حامی ہیں مگر شفافیت پہلی شرط ہے، سلطان سکندر راجا

جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ سلیمان شہباز کی عدم موجودگی میں انہیں حفاظتی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔

امجد پرویز ایڈووکیٹ نے بتایا کہ سلمان شہباز 11 دسمبر کو سعودی ایئر لائن سے پاکستان پہنچیں گے، ایئرپورٹ سے عدالت آنے تک سلیمان شہباز کو گرفتار نہ کیا جائے۔

جس پر عدالت عالیہ نے حکم دیا کہ سلیمان شہباز کو سرنڈر کرنے کیلئے ایئرپورٹ آمد پر گرفتار نہیں کیا جائے گا تاہم عدالت کا کہنا تھا کہ سلیمان شہباز کو عدم موجودگی میں ضمانت نہیں دی جاسکتی۔

وزیر اعظم  شہباز شریف کے صاحبزادے کے سلیمان شہباز نے گزشتہ روز اپنے وکیل امجد پرویز کے ذریعے اسلام آباد ہائی کورٹ میں حفاظتی ضمانت کی درخواست دائر کی تھی جس میں استدعا کی گئی تھی کہ انہیں دو ہفتے کی حفاظتی ضمانت دی جائے۔ درخواست میں ڈی جی ایف آئی اے و دیگر کو فریق بنایا گیا تھا۔

درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ سلیمان شہباز بزنس مین ہیں اور ان کے خلاف منی لانڈرنگ کا جھوٹا مقدمہ درج کیا گیا، وہ کبھی پبلک آفس ہولڈر نہیں رہے جبکہ منی لانڈرنگ کے الزامات جھوٹے اور بے بنیاد ہیں۔

سلمان شہباز کا کہنا ہے کہ بزنس مین ہونے کے ناطے ان کے تمام شیئرز ایس ای سی پی میں رجسٹرڈ ہیں۔

سلمان شہباز نے درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ وہ 27 اکتوبر 2018 سے برطانیہ میں ہیں لیکن کبھی ایف آئی اے کا نوٹس نہیں ملا، ایف آئی اے نے ان کے خلاف مقدمہ ان کی غیر حاضری میں درج کیا، 2018 میں بیرون ملک گئے  جبکہ 2020 میں مقدمہ بنا اور اس کے بعد اشتہاری قرار دیا گیا لہٰذا عدالت دو ہفتے کی حفاظتی ضمانت منظور کرے۔

 یاد رہے کہ رواں برس مئی میں لاہور کی اسپیشل سینٹرل کورٹ نے سلمان شہباز کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے تھے جبکہ ستمبر  منی لانڈرنگ کیس میں سلمان شہبازکے  13 اکاؤنٹ منجمد کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

سلمان شہباز نے گزشتہ چار سال سے خود ساختہ جلا وطنی اختیار کر رکھی ہے ۔ سلمان شہباز پر رمضان شوگر اور العریبیہ ملز کے ذریعے 25 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کا الزام ہے۔

متعلقہ تحاریر